Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

باپٹسٹ چرچ میں تھی۔ یہاں اچاریہ سوشیل کمار اور ڈاکٹر جوزف پیک وغیرہ کی تقریریں ہوئیں۔ تقریر کے دوران زبردست تالیاں بجتی رہیں۔ کارروائی کے آخر میں "قرآت" کا پروگرام تھا۔ انگریزی انجیل کا ایک حصہ نہایت تجوید کے ساتھ پڑھا گیا۔ انجیل کی یہ قرآت جس شخص نے اس کا تعارف ساری دنیا میں انجیل کے بہترین قاری (Best Gospel singer of the world) کی حیثیت سے کرایا گیا۔ پہلے ایک شخص نے قرات کی۔ اس کے بعد چار آدمیوں نے مل کر انجیل کا ایک حصہ کورس کی شکل میں پڑھا۔ اسمبلی کے اجتماع (امریکا نا ہوٹل) میں ہر مذہب کے نمائندے روزانہ اپنے مذہب کی مقدس کتاب کی تلاوت کرتے تھے۔ ۱۹ نومبر کومنی سوشیل کمار نے جین مذہب کی مقدس کتاب کی تلاوت کی۔ اسی طرح بدھ ازم ، ہندو ازم ، سکھ ازم ، یہودیت ، زرتشت وغیرہ کی مقدس کتابیں پڑھی گئیں۔ ان قرآتوں کو سن کر میرے ذہن نے ان کا مقابلہ قرآن کی قرات سے کیا۔ اس مقابلہ میں قرآن کی قرات اتنی اعلیٰ اور جاذب نظر آئی کہ دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ دوسری تمام کتابوں کے الفاظ انسانی الفاظ ہیں اور قرآن کے الفاظ خدائی الفاظ۔ اس کی وجہ سے قرآن کے الفاظ میں ایک عجیب عظمت اور جاذبیت پیدا ہو گئی ہے جو کسی دوسری مذہبی کتاب میں موجود نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن ساؤنڈ آرٹ (Sound art) کا ایک نادر نمونہ ہے۔ دنیا کی کوئی بھی کتاب اس معاملہ میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں ایک مؤثر دعوتی طریقہ یہ بھی ہے کہ ایسے ٹیپ تیار کیے جائیں جن میں مختلف مذہبی کتابوں کی قرات ریکارڈ کی گئی ہو۔ ہر مذہب کی کتاب کی قرات اسی مذہب کے قاری کے ذریعے کرائی جائے ۔ اور پھر اس میں قرآن کی قرات ایک اچھے قاری سے کرا کر شامل کی جائے ۔ یہ کام اگر ویڈیو کیسٹ پر کرایا جائے تو اور بھی اچھا ہے تاکہ سننے والے یہ بھی دیکھیں کہ جس مذہبی کتاب کی قرات ہے اس کو اسی مذہب کا ایک ماہر آدمی پڑھ رہا ہے۔ اگر اس طرح کے ویڈیو کیسٹ یاریکا رڈ تیار کرائے جائیں اور ان کو جگہ جگہ سنایا جائے تو صرف زبان اور آواز کا تقابل لوگوں کو یہ بتانے کے لیے کافی ہو گا کہ کون سی کتاب انسانی کتاب ہے اور کون سی کتاب خالص خدائی کتاب۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page