Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

نظر آئے ۔ تصویر میں تلوار کو توڑ کر ہل بنانا کتنا آسان ہے اور عملی واقعہ میں تلوار کو توڑ کر ہل بنانا کتنا مشکل۔ نیو یارک کی غیر معمولی وسعت کے لحاظ سے اس کی اندرونی سڑکیں تنگ نظر آئیں ۔ دونوں طرف انتہائی اونچی عمارتوں کی قطار کے درمیان اس کی سڑکیں گلیوں کی طرح معلوم ہوتی ہیں۔ نیو یارک اپنی انتہائی اونچی عمارتوں کے لیے مشہور ہے ۔ یہ عمارتیں ضرورت کی پیداوار ہیں۔ لوگوں کے لیے افقی اضافہ (Horizontal growth) کا موقع نہ تھا اس لیے انھوں نے (Vertical growth) عمودی اضافہ کا عمارتی طریقہ اختیار کر لیا۔ تاہم یہ طریقہ اس لیے ممکن ہو سکا کہ نیو یارک کی زمین بیشتر چٹانی ہے۔ دہلی کی جامع مسجد ایک چٹان پر بنائی گئی ہے ۔ یہی معاملہ نیو یارک کا ہے۔ نیو یارک کی زمین کی سطح اگر چٹانی نہ ہوتی تو یہاں اتنی اونچی عمارتیں کھڑی کرنا ممکن نہ ہوتا۔ نیو یارک کی امپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی ۱۰۲ منزلیں ہیں ۔ اس کی تعمیر میں ۶۰ ہزار ٹن لوہا استعمال ہوا ہے۔ اس میں ۱۸۶۰ سیڑھیاں ہیں ۔ تاہم لفٹ کے ذریعہ آدمی صرف تین منट میں ۱۰۲ منزل پر پہو نچ جاتا ہے۔ البتہ اس کے لیے اسے تین لفٹ بدلنی پڑتی ہے۔ ایک زمانہ میں امپائر اسٹیٹ بلڈنگ دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ سمجھی جاتی تھی۔ مگر اب اس سے بھی زیادہ اونچی بلڈنگیں تیار ہو گئی ہیں۔ نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت ۱۰۷ منزلہ ہے۔ شکاگو کے سیئرس ٹاور (Sears Tower) کی ۱۱۰ منزلیں ہیں ۔ وغیرہ ۔ نیو یارک کی اونچی بلڈنگوں کے بارے میں بہت سے لطیفے مشہور ہیں۔ مثلاً ایک لطیفہ ہے ہے کہ ایک آدمی ایک اونچی بلڈنگ میں آیا۔ اس کو اوپر جانا تھا۔ جب وہ بلڈنگ کی لفٹ کے پاس پہونچا تو وہاں یہ نوٹس لگا ہوا تھا : Complaints department on the 45th floor. Lift out of order; please use the stairs. شکایت کا شعبہ ۴۵ ویں منزل پر ہے۔ لفٹ کام نہیں کر رہی ہے۔ براہ کرم سیڑھیاں استعمال کریں ۱۸ نومبر کی شام کو 'اسمبلی' کی ایک نشست نیو یارک شہر میں ہوئی۔ یہ نشست میٹر وپولیٹن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page