Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۷ نومبر ۱۹۸۵ء کو سورج نہیں دکھائی دیا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے کمرہ کے ایک طرف لگے ہوئے شیشہ سے باہر دیکھا تو ہر چیز سفید ہو رہی تھی۔ سڑکوں اور پارکوں میں ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بے حد سفید قسم کی روئی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اوپر سے گر رہے ہیں اور سڑکوں اور پارکوں پر ان کا صاف و شفاف فرش بچھا ہوا ہے درخت بھی ان سے ڈھکے ہوئے نظر آتے تھے۔ معلوم ہوا کہ برف گر رہی ہے۔ تاہم یہ وہ برف نہ تھی جس کے لیے ہمارے یہاں برف یا اولہ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہ اسنو (snow) تھی۔ چوں کہ ہندوستان جیسے ملکوں میں اسنو نہیں گرتی اس لیے اردو زبان میں اس کے لیے کوئی لفظ بھی موجود نہیں۔ اس قسم کی اسنو میں نے پہلی بار روم میں اکتوبر ۱۹۷۶ء میں دیکھی تھی اور دوسری بار ۱۶ نومبر ۱۹۸۵ء کو نیو جرسی میں دیکھی۔ یہ اسنو سرد ملکوں کے لیے ایک عجیب نعمت ہے۔ یہاں کے کسان اسنو کے موسم سے کچھ پہلے زمین میں بیج بو دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کا انکھوا نکل آتا ہے۔ انکھوا نکلنے کے بعد جب اسنو گرتی ہے تو ان کے اوپر اس کی تہ جم جاتی ہے۔ اسنو بچوں کی روئی کی طرح بالکل نرم ہوتی ہے اس لیے وہ انکوا کو نقصان نہیں پہنچاتی اس کے بعد اسنو دھیرے دھیرے پگھلنا شروع ہوتی ہے اور فصل کو آہستہ آہستہ پانی پہنچاتی ہے۔ یہ ایک عجیب قسم کی قدرتی آب پاشی ہے جو سرد ملکوں کے کسانوں کے لیے من وسلویٰ کی نعمت سے کم نہیں۔ ایک ہندوستانی بزرگ امریکہ گئے ۔ وہاں ایک روز انھوں نے ایک امریکی سے پوچھا : کیا آپ کے یہاں ملاوٹ کا دودھ (Adulterated Milk) بھی ملتا ہے ۔ یہ سن کر امریکی کچھ دیر چپ رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کیا جواب دوں ۔ کچھ دیر کے بعد وہ بولا : ہاں ، ہمارے یہاں بعض اسٹور ملاوٹ کا دودھ بھی تیار کرتے ہیں۔ وہ قدرتی دودھ میں بعض وٹامن کا اضافہ کرتے ہیں تاکہ اس کی غذائیت کو بڑھا سکیں۔ مذکورہ عمل کو انگریزی میں adulteration نہیں کہا جاتا۔ اس کو enrichment کہتے ہیں۔ مگر امریکی ذہن چوں کہ اس تصور سے خالی تھا کہ دودھ میں پانی ملا دیا جائے اس لیے اس نے ایڈٹریشن کے لفظ کو enrichment کے معنی میں لیا۔ کتنا فرق ہے ہندوستان کے تاجر اور امریکہ کے تاجر میں۔ ڈاکٹر خورشید احمد صاحب سے ، ۱ نومبر کو تفصیلی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو اپنے مشن کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے افراد تیار کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے سیرت سے متعلق ایک بات کہی جو انھیں کے اپنے الفاظ میں یہ تھی : " حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کارنامہ عظیم ہے۔ لیکن ایک پہلو جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page