امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 266
By Maulana Wahiduddin Khan
سفارش اور جانب داری کے تحت بھی جگہیں مل جاتی ہیں اس لیے اکثریتی فرقہ سے ہر قسم کے لوگ دفتروں اور اداروں میں بھر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جب کوئی مسلمان لیا جاتا ہے تو وہ اپنی ممتاز لیاقت کی بنا پر لیا جاتا ہے۔ یہ گویا ایک قسم کا قدرتی انتخاب ہے۔ اس طرح اقلیت کے ٹاپ کے لوگ اوپر آتے رہیں گے۔ حتیٰ کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اکثریت کی نمائندگی اس کے مخلوط افراد کر رہے ہوں گے اور اقلیت کی نمائندگی اس کے ٹاپ کے افراد ۔ عام شہرت کے مطابق امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ خوش حال ملک ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی خوشحالی حقیقی سے زیادہ مصنوعی ہے۔ امریکہ کی خوشحالی کا راز قرص ہے۔ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ سود دیتا ہے۔ چنانچہ دنیا بھر میں لوگ امریکہ کے بنکوں اور تجارتی اداروں میں اپنا سرمایہ لگاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1985 کے آخر میں امریکہ کے اوپر بیرونی قرضوں کی مقدار تقریباً پانچ سو بلین ڈالر ہے اس قرض میں امریکہ کو ہر سال تقریباً پچاس بلین ڈالر سود ادا کرنا پڑتا ہے ۔ زیادہ شرح سود کا براہ راست فائدہ امریکہ کو یہ ملا کہ اس کی کرنسی (ڈالر) کی اہمیت بڑھ گئی۔ آج کرنسی کی دنیا میں ڈالر کو ’’شہنشاہ‘‘ کا مقام حاصل ہے۔ آپ ہندوستانی سکہ لے کر باہر کی دنیا میں جائیں تو اس کی حیثیت وہی ہوگی جو شیخ سعدی نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے : امیرزاده ناداں به شه روا ماند که در دیار غریبش به هیچ نستاند لیکن اگر آپ کے پاس ڈالر ہے تو دنیا کے ہر حصہ میں خالص سونے کی مانند آپ اس کی قیمت پا سکتے ہیں ۔ اس سودی معاشیات کا سب سے بڑا نقصان ہتیاروں کی بڑھتی ہوئی تجارت ہے۔ امریکہ کو جب ہر سال پچاس بلین ڈالر سود ادا کرنا ہے تو مزوری ہے کہ وہ اپنی جمع شدہ رقم کو زیادہ سے زیادہ نفع بخش تجارت میں لگائے۔ موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ نفع بخش تجارت جنگی ہتھیار ہے۔ چنانچہ امریکہ بالقصد ساری دنیا میں جنگ کی آگ بھڑکاتا رہتا ہے تاکہ اس کی جنگی صنعت کے مستقل خریدار حاصل رہیں یہاں باقاعدہ ایسے جرائد شائع ہوتے ہیں جن میں ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی کی تفصیل درج ہوتی ہیں ۔ کہ اگر آپ ہم سے فلاں ہتھیار خریدیں تو اس کے ذریعہ آپ اتنی زیادہ تباہی برپا کر سکتے ہیں۔ اسلحہ کی اس تجارت کی کم از کم جزئی ذمہ داری سودی معاشیات پر ہے۔ امریکہ اگر ہتھیاروں کی صنعت کو مسلسل نہ بڑھائے تو وہ اپنے اوپر بڑھے ہوئے عالمی سود کو ادا کرنے کے قابل نہ رہے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader