Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

(Prof. Huston Smith) سے بھی ملاقات ہوئی وہ ۱۹۸۵ء میں ہمارے مرکز (نئی دہلی) میں آئے تھے۔ وہ موجودہ کانفرنس کی پلاننگ کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ امریکہ کے بارے میں کچھ مزید باتیں حسب ذیل ہیں : ایک امریکی ایجنسی نے ۱۹۸۴ء کے آغاز میں ایک رپورٹ تیار کی تھی۔ یہ رپورٹ ہندوستانی اخبار ٹائمس آف انڈیا (۲۶ فروری ۱۹۸۴ء) میں بھی حسب ذیل عنوان کے ساتھ شائع ہوئی تھی : Indians in US best educated minority اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں رہنے والے ہندوستانی وہاں کی سب سے بہتر تعلیم یافتہ جماعت ہیں۔ اور اس بنا پر وہ امریکہ کے سب سے زیادہ خوش حال گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امریکہ میں تقریباً نصف ملین ہندوستانی بستے ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو ہندوستانی امریکی (Indian Americans) کہلانا پسند کرتے ہیں۔ مگر خود امریکی لوگ انھیں ایشیائی امریکی (Asian Americans) کہتے ہیں۔ یہ ہندوستانی امریکی اکثر اعلیٰ لیاقت کے لوگ ہیں۔ وہ ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل ، انجینئر، اکائونٹنٹ اور سائنٹسٹ ہیں۔ بعض نے یہاں اپنا ذاتی بزنس شروع کر رکھا ہے۔ ان میں ایک تعداد وہ ہے جو کروڑ پتی ہے۔ اور کچھ وہ ہیں جن کے پاس اپنا ذاتی ہوائی جہاز ہے : Some even own aircraft for their private use. رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستانی امریکیوں کی اوسط خاندانی آمدنی ۲۴۹۹۳ ڈالر سالانہ ہے۔ جب کہ خود امریکیوں کی اوسط خاندانی آمدنی ۱۹,۹۱۷ ڈالر سالانہ ہے : The median family income of the Indian American community is $ 24,993 per year while the average for the all U.S. median family income is only $ 19,917. امریکہ کی اصل آبادی میں بر تر لیاقت کے لوگ بھی ہیں اور کم تر لیاقت کے لوگ بھی۔ مگر ہندوستان سے جو لوگ امریکہ جاتے ہیں وہ سب منتخب لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی برتر قابلیت کے بل پر وہاں چلنے کا حوصلہ کرتے ہیں اور اسی بنا پر وہ وہاں کے مقابلوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ہندوستان جیسے ملک کی اقلیتوں کے لیے اس میں بڑا سبق ہے۔ یہاں اکثریتی فرقہ کے لوگوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page