امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا ۔ اس تلخ تجربہ نے اس کی خوش گمانیوں کا غبارہ توڑ دیا۔ اس کے بعد اس کی توجہات مسلم دنیا کی طرف مڑ گئیں۔ ترکی کے صدر نے اس کے بعد سے بے شمار مرتبہ عرب دنیا کے دورے کیے ہیں۔ عرب لوگ کثرت سے ترکی جانے لگے ہیں۔ عربوں کو ترکی میں ایسی رعایتیں دی گئی ہیں جو اس سے پہلے انھیں حاصل نہ تھیں۔ مثلاً ایک قانون میں تبدیلی کر کے اس کی گنجائش پیدا کی گئی کہ عرب ترک شہروں میں جائیداد خرید سکتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔ مسلم دنیا سے اس تعلق کے بالواسطہ نتیجہ کے طور پر ترکی میں اسلام اور اسلامی تحریک کو نئے مواقع مل گئے جو کمال اتاترک اور عصمت انونو نے ختم کر رکھے تھے۔ جدید ترکی میں دوبارہ اسلام زندہ ہو رہا ہے اور یہ نتیجہ ہے امریکہ کی اس سیاست کا جو اس نے ۱۹۷۴ میں قبرص کے معاملہ میں اختیار کی تھی۔ یہ میرے لیے اس سیاحت کا آخری دن تھا، میں ۲۲ نومبر ۱۹۸۵ء کو میں دہلی واپس پہنچا۔ میں، میں ہوں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader