Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے کہا کہ یہ میں بچوں کے لیے لے رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ اپنے بچوں کو بھی ویسا ہی بنائیے جیسا آپ کو بننا ہے وہ ہنس کر کہنے لگے " آپ تو ابوذرغفاری ہیں ، ہم لوگ ایسے کہاں بن سکتے ہیں " ۶ دسمبر ۱۹۸۵ء کی صبح کو ہم ایر افریقی کے ذریعہ بماکو پہنچے۔ بماکو مالی کی راجدھانی ہے۔ یہ سفر وقفہ کے لحاظ سے میرے تمام سفروں میں سب سے زیادہ طویل تھا۔ ۳ دسمبر کا دن گزار کر رات کو میں نے عشار کی نماز دہلی میں پڑھی تھی۔ اس کے بعد برابر سفر میں رہا۔ یہاں تک کہ ۶ دسمبر کو فجر کی نماز تب کو میں پڑھی۔ عجیب اتفاق ہے کہ نومبر ۱۹۸۵ء کے تیسرے ہفتے میں امریکہ میں تھا۔ وہاں سے واپسی کے جلد ہی بعد دسمبر کے پہلے ہفتہ میں یورپ سے گزرتے ہوئے افریقہ آنا ہوا۔ اس تین ہفتہ کے اندر میں نے اپنی نمازیں چار بر اعظموں (امریکہ، ایشیا، یورپ، افریقہ) میں ادا کیں۔ اس طرح گویا خدا کی زمین کے بیشتر حصہ میں خدا کے آگے سجدہ کرنے کی توفیق نصیب ہوئی۔ اپنی مغفرت کی دعا کے بعد دوسری دعا جو دل سے نکلتی رہی وہ یہ تھی کہ خدا ! بیٹکے ہوئے لوگوں کی ہدایت کا سامان فرما۔ مالی کا رقبہ ۱۲۲۰۰۰۰ مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی آبادی ۱۹۸۰ء کی مردم شماری کے مطابق تقریباً ستر لاکھ ہے۔ بماکو اس کی راجدھانی ہے۔ یہ ملک ۱۸۹۸ء سے لے کر ۱۹۶۰ء تک فرانس کے زیر قبضہ رہا۔ اب وہ آزاد ہے مالی بنیادی طور پر زرعی ملک ہے ۔ اس کا تقریباً نصف حصہ صحرا ہے۔ یہاں کا سب سے بڑا دریا نائجر ہے۔ ۹۰ فیصد آبادی زراعت پیشہ ہے۔ یہاں کی سرکاری زبان ابھی تک فرانسیسی ہے۔ آبادی میں تقریباً ۸۰ فیصد مسلمان ہیں۔ عیسائیوں کی تعداد صرف ۲ فیصد ہے۔ یہاں کے لوگ گیارہویں صدی عیسوی میں مسلمان ہوئے۔ بماکو کی آبادی تقریباً چھے لاکھ سترہ ہزار ہے۔ تعلیم دس فیصد ہے ۔ مالی میں لوہا پیدا ہوتا ہے ۔ وہ ملک میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ باکسائٹ، مینگیز، فاسفورس وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ سونا بھی ملتا ہے۔ تاہم ذریعہ آمدنی زیادہ تر زراعت اور مچھلی ہے۔ مچھلی نائجر دریا سے حاصل کی جاتی ہے۔ ریل صرف ۴۰ میل تک ہے زیادہ تر روڈ سے سفر کیا جاتا ہے۔ یہاں کی حکومت کا نظام جمہوری ہے۔ مالی کا انحصار فرانس کی مدد پر رہا ہے اب عرب ملکوں سے بھی اس کو کافی امداد مل رہی ہے۔ مالی مغربی افریقہ میں واقع ہے ۔ اس کو سمندری کنارہ حاصل نہیں ۔ بماکو میں میرا قیام ہوٹل (Hotel Sofitel L'Amitie) میں تھا۔ میرے کمرہ کا نمبر ۱۷۲ تھا ، میرا مزاج کچھ اس قسم کا ہے کہ " در و دیوار " سے مجھے انس نہیں ہوتا۔ خواہ وہ تعمیراتی اعتبار سے کتنے ہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page