Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 278

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے کہا کہ امریکہ میں اسلام کے تعارف کے لیے ہمیں انگریزی کتابوں کی سخت ضرورت ہے۔ اس وقت انگریزی میں جو کتابیں دستیاب ہیں وہ زیادہ تر ان لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں جو اسلام کو سیاسی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ یہ انداز امریکیوں کو زیادہ اپیل نہیں کرتا۔ ہمیں ایسی کتابوں کی ضرورت ہے جس میں اسلام کو اس کے فطری اور ابدی انداز میں پیش کیا گیا ہو۔ میں نے تعارفی سیٹ (انگریزی) کا ذکر کیا۔ انھوں نے اس سے بہت دل چسپی ظاہر کی ۔ انشاء اللہ ان کو انگریزی کا تعارفی سیٹ بھیج دیا جائے گا۔ دکار ایئر پورٹ پر کئی غیر مسلم یورپی ملے ۔ وہ بماکو جا رہے تھے ۔ ایک صاحب اٹلی کے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا مضمون جیالوجی ہے۔ وہ ایک پروجیکٹ میں مدد کرنے کے لیے ایکسپرٹ کے طور پر بہا کو جا رہے ہیں ۔ اکثر افریقی ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ مگر یہ ممالک مستقل طور پر اپنی پسماندگی کی قیمت مغربی اقوام کے دخل کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ اولا مغربی قوموں نے افریقہ میں سیاسی غلبہ حاصل کیا۔ اس کے بعد جب آزادی کا وقت آیا تو انھوں نے افریقی عوام کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر ان کو چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم کر دیا۔ اب وہ تکنیکی ماہرین اور مسیحی مبلغین کے ذریعہ یہاں نفوذ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے قائدین اس کو ظلم سے تعبیر کریں گے مگر حقیقتہ یہ اپنی پسماندگی کی قیمت ہے جو افریقہ مسلسل ایک یا دوسری صورت میں ادا کر رہا ہے ۔ دکار سے بما کو کے لیے ایئر افریق سے روانگی ہوئی۔ جہاز میں ایر ہاسٹس نے کھانے کے لیے پوچھا۔ یہ غالبًا افریقہ کی عیسائی خاتون تھی ۔ میں نے کہا کہ ”ویجیٹیرین“۔ وہ اچھی انگریزی جانتی تھی مگر ویجیٹیرین کا لفظ اس کی سمجھ میں نہ آیا۔ کیوں کہ یہاں کثرت سے لوگ گوشت کھاتے ہیں ، میں نے کئی بار دہرایا تو اس نے حیرت کے ساتھ کہا: Oh, you are vegetarian! (اوہ، آپ سبزی خور ہیں) ہم ، دسمبر کی صبح کو بماکو (Bamako) پہنچے۔ یہاں ہوٹل میں حسب معمول طرح طرح کی چیزیں بک رہی تھیں ۔ شرکار اجتماع میں سے ایک صاحب زیور کی الماری کے سامنے کھڑے ہو گئے اور اپنے بچوں کے لیے زیور خریدنے لگے ۔ یہ ایک افریقی عالم تھے اور عربی اچھی جانتے تھے۔ ان سے میری کافی بے تکلفی ہو گئی تھی ۔ میں نے کہا کہ ایسے بن جائیے کہ آپ کو صرف آیات اللہ نظر آئیں ۔ یہ چیزیں آپ کو دکھائی نہ دیں۔ جو آیات الانسان کی حیثیت رکھتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page