Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 281

By Maulana Wahiduddin Khan

سے میں نے انگریزی الرسلہ کے بارہ میں دریافت کیا تو انھوں نے اس کے مضامین کے بارے میں بہت اچھے تاثر کا اظہار کیا ۔ انھوں نے کہا : Very simple, very effective بہت سادہ اور بہت اثر انگیز) ایک صاحب کینیا سے آئے تھے۔ ان کو بھی انگریزی الرسلہ جارہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں کم از کم دس آدمی پابندی سے آپ کا انگریزی الرسلہ پڑھتے ہیں۔ ان کو ایک رسالہ کے بعد دوسرے رسالہ کا انتظار رہتا ہے ۔ اور یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں جو انگریزی زبان سے بہت اچھی واقفیت رکھتے ہیں ۔ یہاں کی اسلامی کانفرنس میں ایک صاحب سوئزرلینڈ سے آئے تھے ۔ ان کو بھی انگریزی الرسلہ برابر جارہا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے یہاں کئی لوگ اس کو پابندی سے پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے اس کے زبان و بیان کا پر زور الفاظ میں اعتراف کیا۔ مزید انھوں نے بتایا کہ سوئزرلینڈ میں ایک صاحب انگریزی الرسلہ کے اتنا زیادہ متدر داں ہیں کہ انھوں نے اس کے کئی مضامین کو ٹیپ پر منتقل کیا اور اس کو وہاں کے ریڈیو اسٹیشن سے نشر کرایا ۔ میں اپنے ساتھ کتابیں نہیں لے گیا تھا ۔ میرے ساتھ صرف عربی کتاب (الدین فی مواجہتہ العلم) کے چند نسخے تھے اور انگریزی الرسلہ کی چند کا پیاں تھیں ۔ میں نے دیکھا کہ جس سے بھی کتاب یا رسالہ کا ذکر آیا وہ بے حد شوق اور احترام کے ساتھ اس کو لیتا تھا اور چاہتا تھا کہ پورا سٹ اسے مل سکے ۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں بے شمار لوگ اسلام کو وقت کے اسلوب میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر آج اسلامی مرکز کے سوا غالباً کوئی بھی ادارہ نہیں جو اسلام کی تعلیمات کو جدید عصری اسلوب میں پیش کر رہا ہو ۔ بعض لوگ اسلام کو سیاسی اسلوب میں پیش کرتے ہیں اور غلطی سے سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کو عصری اسلوب میں پیش کر رہے ہیں ۔ حالاں کہ عصری اسلوب سائنٹفک اسلوب کا نام ہے نہ کہ سیاسی اسلوب کا۔ کانفرنس میں ویسٹ انڈیز کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی مادری زبان انگریزی ہے۔ انھوں نے ڈاکٹریٹ تک کی تعلیم امریکہ میں حاصل کی ہے ۔ وہ انگریزی الرسلہ سے واقف نہ تھے۔ ان کو انگریزی الرسلہ کا ایک شمارہ ( نومبر ۱۹۸۵) دیا گیا ۔ انھوں نے رات کو سونے سے پہلے پورا رسالہ پڑھ ڈالا۔ اس کے بعد بار بار تقاضا کرتے رہے کہ یہ رسالہ میں مستقل طور پر پڑھنا چاہتا ہوں ۔ مجھ سے بہ تکرار وعدہ لیا کہ میں انھیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page