Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 282

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزی الرسالہ روانہ کروں گا۔ ان سے میں نے انگریزی الرسالہ کے بارے میں ان کا تاثر پوچھا تو انھوں نے کہا : It is a very impressive and relevant piece of literature about Islamic realities. (یہ اسلامی حقیقتوں کے بارہ میں ایک بے حد مؤثر اور بہت متعلق ادب پارہ ہے) موصوف گیانا کے اسلامک سنٹر کے ڈائرکٹر ہیں۔ افریقہ کا مشہور تاریخی شہر تمبکٹو (Tumbukto) اسی مالی میں واقع ہے۔ تمبکٹو چودھویں صدی عیسوی سے لے کر سولھویں صدی عیسوی تک اس علاقہ میں اسلامی تعلیم اور اسلامی ثقافت کا مرکز رہا ہے۔ تمبکٹو کی بنیاد غالباً 512ء میں پڑی۔ ابتداً اس نے تجارتی مرکز کی حیثیت سے ترقی کی۔ اس کے بعد وہ ثقافتی اور علمی مرکز بن گیا۔ یہاں قدیم زمانہ میں کئی اسلامی یونیورسٹیاں قائم تھیں جن میں علم حاصل کرنے کے لیے دور دور کے طلبہ آتے تھے۔ تمبکٹو کی مرکزی حیثیت ۱۵۹۱ء میں ختم ہوئی جب کہ وہ مراکو کے قبضہ میں چلا گیا۔ اس کے بعد وہاں بار بار انقلابات آتے رہے۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۸۵ء کو ایک ہوائی جہاز چارٹر کیا گیا تھا اور کانفرنس کے تمام شرکار اس کے ذریعہ تمبکٹو کو دیکھنے کے لیے جانے والے تھے۔ مگر بعض وجوہ سے مجھے جلد دہلی پہونچنا تھا اس لیے میں تمبکٹو کے سفر میں شریک نہ ہو سکا اور ۹ دسمبر کی شام کو بما کو سے دہلی کے لیے روانہ ہو گیا۔ ۹ دسمبر ۱۹۸۵ء کو یہاں کا اسلامی مرکز دیکھا۔ بما کو کا یہ اسلامی مرکز شارع زائد بن سلطان پر واقع ہے۔ وہ ۳۵ ہزار مربع میٹر کے رقبہ میں پانچ ملین ڈالر کے خرچ سے بنایا گیا ہے۔ اس کا فنڈ عرب ملکوں نے ادا کیا ہے۔ یہاں کی مسجد میں میں نے دو رکعت نماز ادا کی۔ کانفرنس کے تمام شرکار اجتماعی طور پر مرکز میں لے جائے گئے تھے۔ یہ مرکز ابھی بن کر تیار ہوا ہے۔ تاہم ابھی اس میں کام نہیں شروع ہوا ہے۔ لوگ گھوم گھوم کر شاندار مرکز کے مختلف حصے دیکھ رہے تھے اور پرجوش طور پر باتیں کر رہے تھے۔ میں خاموش اپنے خیالات میں کھویا ہوا ان کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس دوران ایک افریقی عالم استاذ احمد دراے میرے پاس آئے اور مسکراتے ہوئے میرے بارہ میں کہا : يُعجب الناس بالمباني ويُعجبُ الشيخ بالمعانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page