Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 287

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو ظلم و ستم کی وجہ سے اپنے وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، رمز و مقرر خود بھی ایک پناہ گزین تھے جو اپنے وطن کو چھوڑ کر اب یورپ کے ایک ملک میں رہتے ہیں) پناہ گزینوں کی اس تعداد میں تقریباً سات ملین مسلمان ہیں۔ نصف ملین پناہ گزیں اس وقت صرف سوڈان میں موجود ہیں ۔ ایک صاحب نے اس موضوع پر تحریر کرتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا : Why they are refugee? Because they are fighting for Islam. (یہ لوگ کیوں پناہ گزیں ہیں، اس لیے کہ وہ اسلام کی خاطر لڑ رہے ہیں) یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے جس میں موجودہ زمانہ کے تمام مسلمان مبتلا ہیں۔ وہ دنیا بھر میں اپنے قومی مقاصد کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں اور اس کو جہاد کہتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ لڑائیاں بھی بے فائدہ لڑائیاں ہیں، کیوں کہ وہ حقیقی تیاری کے بغیر لڑی جارہی ہیں ۔ اس قسم کی جھوٹی لڑائیوں کو اسلامی جہاد کہنا میرے نزدیک اسلامی جہاد کے لفظ کی سخت نا قدری کرنا ہے۔ ایک ادارہ کے ذمہ دار نے بتایا کہ ان کے ادارہ میں ایک معمر خاتون آئیں اور کہا کہ میں حج پر جانا چاہتی ہوں۔ مگر میرے پاس سفر خرچ کی رقم نہیں ہے۔ آپ لوگ میرے لیے سفر خرچ کا انتظام کر دیں تاکہ میں حج کے لیے جاسکوں ۔ خاتون سے کہا گیا کہ جب آپ کے پاس سفر خرچ نہیں ہے تو شرعی طور پر آپ کے اوپر حج فرض بھی نہیں ہے، پھر آپ کیوں اس کے لیے سوال کر رہی ہیں ۔ خاتون نے جواب دیا : میں سترہ سال سے برابر ہر سال حج کے لیے جارہی ہوں ، پھر اس سال میں کیوں اس سے محروم رہوں۔ جب اسلام اپنی حقیقی شکل میں باقی نہ رہے تو اسی قسم کے واقعات پیش آتے ہیں ۔ اسلام کا اصل ہتھیار دعوت ہے۔ یہی اس کی سب سے بڑی قوت ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان اگرچہ دعوت کو بالکل بھول گیے ہیں۔ تاہم اسلام اپنے زور پر برابر لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ ہالینڈ کے کے بارہ میں ایک تقریر میں وہاں کے مسلمانوں کے حالات بتائے گیے۔ اس سلسلہ میں مقرر نے جو تفصیلات پیش کیں ان میں یہ بھی تھا کہ ہالینڈ کے شہر اوترخت (Utrecht) میں ایک اجتماع ہوا ۔ اس اجتماع میں یورپ اور امریکہ کے کئی مسلمان شریک ہوئے ۔ اجتماع کے دوران ایک نشست ہوئی جس میں مسیحی چرچ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔ اس سلسلہ میں مقرر نے جو کچھ کہا اس میں یہ الفاظ بھی تھے : وقد شاركت الكنيسة في حوار جرى في هذا الملتقى حول العلاقة بين المسيحية

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page