Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 288

By Maulana Wahiduddin Khan

والاسلام ۔ وقد اعلن احد المھندسیں البلجیکیین اسلامہ فی ھذا الملتقٰی اس اجتماع کے دوران مسیحی چرچ نے بھی ایک نشست میں شرکت کی۔ اس میں مسیحیت اور اسلام کے تعلق کے بارہ میں ڈائیلاگ ہوا۔ اس موقع پر بلجیم کے ایک عیسائی انجینئر نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اجتماع کے بعد ہالینڈ کے ایک گاؤں میں بہت سے عیسائی اسلام میں داخل ہو گئے ۔ اسلام کی دعوت اسلام کی سب سے بڑی قوت ہے۔ مگر اسلام کے علم بردار اس کی اسی قوت کو موجودہ زمانہ میں سب سے کم استعمال کر رہے ہیں۔ افریقہ کے ایک صاحب نے بتایا کہ ممباساکے ایک عیسائی نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد اس نے سواحلی زبان میں ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کا نام ہے : میں نے مسیحیت کو کیوں چھوڑا۔ اس کتاب میں مذکورہ نومسلم نے بتایا کہ انجیل کے مطابق مسیح نے فرمایا کہ میں یہود کے لیے آیا ہوں، اس کے برعکس محمد ﷺ نے فرمایا کہ میں ساری دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں ــــــ اسلام عالمی اپیل کے لیے اپنے اندر کس قدر زیادہ سامان رکھتا ہے۔ مگر مسلمان اپنے چھوٹے چھوٹے قومی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ وہ اسلام کے عالمی اظہار کے لیے موجودہ زمانہ میں کچھ نہ کر سکے ۔ بماکو سے واپسی میں ایک فرانسیسی انجینئر سے ایرپورٹ پر ملاقات ہوئی اس نے اپنا نام بانار (Barnar) بتایا۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک گفتگو رہی۔ میرے ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ میں بائبل پڑھتا ہوں اور اس پر عقیدہ رکھتا ہوں مگر میں چرچ نہیں جاتا۔ میں نے پھر پوچھا کہ کیوں ، اس نے کہا کہ ، اس لیے کہ بائبل اور چرچ میں تضاد پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجیے۔ اس نے کہا : مثلاً بائبل میں بت بنانا سختی سے منع کیا گیا ہے مگر چرچ میں آپ جائیں تو وہاں آپ دیکھیں گے کہ بت بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح کی ابنیت کے بارہ میں اس نے کہا کہ مسیح حقیقی معنوں میں خدا کے بیٹے نہیں تھے ۔ ”بیٹے“ کے لفظ کو میں تمثیلی مانتا ہوں نہ کہ حقیقی۔ اس طرح کی باتیں دیر تک ہوتی رہیں۔ امریکہ سے آنے والے ایک صاحب نے بتایا کہ ۸۵۔۱۹۸۴ میں ایتھوپیا میں قحط کا مسئلہ پیدا ہوا تو امریکی حکومت نے ابتداً اس میں کوئی دچسپی نہ لی۔ مگر بعد کو یہ مسئلہ اخبارات میں بہت زیادہ نمایاں ہوا۔ مختلف ملکوں نے اس مد میں بڑی بڑی رقمیں دیں۔ اس کے بعد یہ مسئلہ امریکہ کے لیے ساکھ کا مسئلہ بن گیا کیوں کہ امریکہ عالمی قیادت کا دعویدار ہے اور اتنے بڑے انسانی مسئلہ میں حصہ نہ لینا اس کی قیادت کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page