امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت نامہ کی اطلاع تو ٹیلی فون پر مل گئی۔ اب دوسرا سوزر لینڈ ایمبیسی سے ویزا حاصل کرنے کا تھا۔ مگر ان کا اصول یہ ہے کہ وہ ویزا صرف اس وقت دیتے ہیں جب کہ آدمی کے پاس تحریری دعوت نامہ اور ہوائی جہاز کا ٹکٹ موجود ہو۔ اب اتنا وقت نہیں تھا کہ دعوت نامہ اور ٹکٹ معمول کی ڈاک سے روانہ کیا جائے۔ موجودہ تیز رفتار دنیا میں اس کا حل بھی تلاش کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ انھوں نے ہوائی جہاز کا ٹکٹ پی ٹی اے (Prepaid Ticket Advice) کے ذریعہ بھیجا جو کمپیوٹر پر اگلے دن آ گیا۔ اور فوری خطوط کے لیے موجودہ زمانہ میں ایک نظام قائم کیا گیا ہے جس کو کورئے سروس (Courier Service) کہا جاتا ہے۔ اس میں خطوط یا ٹکٹ محکمہ ڈاک کے حوالے کرنے کے بجائے براہ راست ہوائی جہاز کے ذریعہ بھیجے جاتے ہیں اور منزل پر اس کی ایجنسیاں پیکٹ کو وصول کر کے مکتوب الیہ کے دفتر میں دستی طور پر پہونچا دیتی ہیں۔ اس طرح نیویارک سے چلا ہوا خط ہم کو تین دن کے اندر ۲۵ نومبر کو دہلی میں وصول ہو گیا۔ دعوت نامہ کے ساتھ مجھ کو "جنرل انفارمیشن" کے جو کاغذ ملے تھے اس میں درج تھا : Participants holding U.S. passports do not need a visa. یعنی کانفرنس کے جو شر کا امریکہ کا پاسپورٹ رکھتے ہوں ان کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں۔ "ہندوستان" جیسے ملک کے لوگ جب باہر نکلتے ہیں تو ان کو ایک عجیب قسم کے بین اقوامی امتیاز کا تجربہ ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں دنیا کی قومیں دو قسم کے طبقات میں بٹ گئی ہیں۔ ایک دینے والی، اور دوسری لینے والی۔ دینے والی قوم کے افراد جب کسی غیر ملک میں جاتے ہیں تو ان کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ان کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس لینے والی قوم کا فرد جب کسی غیر ملک میں جاتا ہے تو اس کو توحش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اول الذکر کے لیے نسبتاً نرم قوانین ہیں اور ثانی الذکر کے لیے نسبتاً سخت قوانین۔ یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ ہندوستان، اپنے بے شمار وسائل کے باوجود، ابھی تک دوسری قسم کے ممالک کی فہرست میں شامل ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader