امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 291
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر مذہبی آزادی کی عالمی کونسل (The World Council on Religious Liberty) کا صدر دفتر نیو یارک (امریکہ) میں ہے۔ اس کے زیر اہتمام ۱۳۔ ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۶ کو جینیوا (سوئزر لینڈ) میں ایک بین اقوامی کانفرنس ہونے والی تھی۔ اس کا ابتدائی دعوت نامہ (مورخہ ۱۹ اگست ۱۹۸۶) مجھے پہلے ملا تھا۔ مگر اس وقت جینیوا کا سفر کرنا میرے لیے ممکن نہ تھا۔ اس لیے میں اس دعوت نامہ کو قبول نہ کر سکا اور معذرت نامہ لکھ کر بھیج دیا۔ میں اپنی مشغولیتوں میں اس کا نفرنس کو بھول چکا تھا کہ نومبر کے تیسرے ہفتے میں رات کے وقت ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو معلوم ہوا کہ مذکورہ ادارہ کے ذمہ دار نیو یارک سے بول رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بعض اسباب سے کا نفرنس کی تاریخیں ملتوی ہو گئی تھیں۔ اب یہ کانفرنس ۷۔ ۹ دسمبر ۱۹۸۶ کو جینیوا میں ہورہی ہے۔ کیا آپ اس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ ان کو بتایا گیا کہ اس کا جواب ہم آپ کو چند دن کے بعد دے سکیں گے۔ چنانچہ ۱ نومبر کو دوبارہ ان کا ٹیلی فون آیا تو میں نے شرکت کے لیے رضا مندی دیدی۔ اس کے بعد نیو یارک سے بار بار ان کے ٹیلی فون آتے رہے۔ چوں کہ وقت کم تھا ، وہ کانفرنس کی تمام تفصیلات ٹیلی فون پر بتاتے رہے۔ ان کا ٹیلی فون اکثر نصف شب کو آتا تھا۔ وہ خود اگر چہ دن کے ” ۱۲ بجے ” ٹیلی فون کرتے تھے ۔ مگر وہ ہم کو رات کے ” ۱۲ بجے “ وصول ہوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہاں سے یہاں تک ٹیلی فون کے پہونچنے میں ۱۲ گھنٹہ لگتا تھا۔ ٹیلی فون تو دنیا کے کسی بھی حصہ میں ایک سیکنڈ سے بھی کم مدت میں پہونچ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس وقت امریکہ میں نصف دن (دوپہر) کا وقت ہوتا ہے ، اس وقت ہندستان میں نصف شب کا وقت ہوتا ہے۔ وہ اپنے لحاظ سے دن کے ” ۱۲ بجے “ ٹیلی فون کرتے تھے۔ مگر دہلی میں ہم کو ان کا ٹیلی فون رات کے ” ۱۲ بجے “ ملتا تھا۔ ایک ملک اور دوسرے ملک میں وقت کا یہ فرق در اصل زمین کی محوری گردش کے سبب سے پیدا ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader