Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

جس کا نام ہے (Islamization of Pakistan) اس کتاب میں فاطمی حکمرانوں کا ذکر کرتے ہوئے صفحہ ۱۰ پر یہ فقرہ تھا : Sicily for a time acknowledged the Fatimid sovereignty extended over Genoa. دسیلی نے ایک وقت میں فاطمیوں کا اقتدار تسلیم کیا جو جیو انک پھیلا ہوا تھا) میں نے کتاب کو دیکھنے کے بعد کہا کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی۔ ڈاکٹر افضل اقبال نے جنوا (Genoa) کا ذکر کیا ہے یہ جنوبی اٹلی کا ایک شہر ہے۔ جب کہ میرا سفر جنیوا (Geneva) کے لیے ہو رہا ہے جو سوئزر لینڈ میں واقع ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سسیلی اور جنوبی اٹلی پر ایک زمانہ میں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے۔ مگر سوئزر لینڈ میں کبھی ان کی باقاعدہ حکومت قائم نہیں ہوئی۔ لفظی اشتراک سے بعض اوقات بڑی عجیب غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ دہلی سے سفر کا آغاز برٹش ایرویز کی فلائٹ نمبر ۲۰ سے ہوا۔ یہ جہاز ہانگ کانگ سے آتا ہے اور دہلی ہوتے ہوئے لندن جاتا ہے۔ ”ہم ایک لمبی پرواز پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ۹ گھنٹہ کے بعد ہم لندن ایر پورٹ پر اتریں گے“ اس اعلان کے ساتھ ۷ دسمبر ۱۹۸۶ کی صبح کو ۳ بجے ہمارا جہاز فضا میں بلند ہوا۔ اس سفر کا بیشتر حصہ سونے میں گزرا، اس لیے سفر کی تکان کا زیادہ احساس نہیں ہوا۔ نیند بھی اللہ تعالیٰ کی کیسی عجیب نعمت ہے۔ جو لوگ پاگل ہوتے ہیں، اکثر اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ ان کی نیند اڑ جاتی ہے۔ دنیا میں اگر سب کچھ ہو، صرف نیند اس سے اٹھا لی جائے تو تمام انسان اپنا ذہنی توازن کھودیں اور پوری دنیا ایک بہت بڑا پاگل خانہ بن کر رہ جائے۔ لندن ایر پورٹ سے اگلی فلائٹ پکڑنے کے لیے ٹرمینل نمبر پر جانا تھا۔ میں ایرپورٹ کی گاڑی سے روانہ ہوا تو وہاں میرے ساتھ چار آدمی اور بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ لوگ کسی مختلف زبان میں آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ کون سی زبان بول رہے ہیں۔ انھوں نے جو جواب دیا وہ مجھے ”جومن“ سنائی دیا۔ پہلی بار میری سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے دہرایا تو میں سمجھا کہ وہ جرمنی کے رہنے والے ہیں اور جرمن زبان بول رہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page