Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

رہے ہیں۔ اسی کا نام ہجہ کا فرق ہے ۔ ہر گروہ کا ہجہ الگ الگ ہوتا ہے ۔ اس لیے الفاظ کی ادائیگی میں ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہو جاتا ہے ۔ اسی ایک لفظ کو کوئی جرمن کہتا ہے ، کوئی جومن، کوئی جمن ۔ مگر معنوی اعتبار سے سب کی مراد ایک ہوتی ہے۔ اسی کی روشنی میں اس حدیث کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے جس میں آیا ہے کہ قرآن سات حرفوں میں اترا ہے ۔ یہاں "سات" سے مراد تعدد ہے ۔ یعنی الفاظ کی ادائیگی (لہجہ) کے اعتبار سے قرات قرآن کے کئی طریقے ہیں۔ یہ حدیث دراصل اسلام کی عالم گیریت کو بتاتی ہے ۔ اس ارشاد سے رسول اللہ کا مطلب یہ تھا کہ اسلام صرف مذہبی پیشواؤں (کلرجی) کا مذہب نہ ہوگا اور نہ وہ کسی ایک قوم میں محدود رہے گا ۔ وہ عمومی سطح پر پھیلے گا اور مختلف قبیلے اور قومیں اس کو قبول کریں گی ۔ اس لیے بالکل قدرتی بات ہے کہ لہجات کے اختلاف کی وجہ سے اس کی ادائیگی کے کئی طریقے ہو جائیں ۔ لندن سے جنیوا کا سفر برٹش ایرویز کی فلائٹ نمبر ۶۲۴ کے ذریعہ ہوا۔ جہاز میں مشہور ہفتہ وار اکانومسٹ (The Economist) کا شمارہ ۶ دسمبر ۱۹۸۶ پڑھا۔ اس میں ایک مضمون ایران ۔ عراق کے مسئلہ کے بارے میں تھا ۔ ایڈیٹر نے مختلف وجوہ بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ ایران کا مسئلہ مغرب کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے ۔ ایران کے مقابلہ میں عراق کی انسانی طاقت صرف ایک تہائی ہے۔ اس لیے یہ بظاہر نا ممکن ہے کہ عراق اس جنگ سے فاتح ہو کر نکلے ۔ مزید یہ کہ جنگ ہمیشہ نہیں رہ سکتی ۔ وہ کبھی نہ کبھی ختم ہوگی ۔ آنے والے وقت کے پیش نظر مغرب کو ضرورت ہے کہ وہ ایران کے بارہ میں اپنی پالیسی پر ٹھنڈے طریقہ سے غور کرے : That is why the west needs to be thinking coolly about an Iran policy. زندہ لوگ دشمنی کے ساتھ دوستی کرنا بھی جانتے ہیں ۔ جب کہ مردہ لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب وہ ایک رخ پر چل پڑیں تو اس سے پھرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا ۔ جہاز کے اندر برٹش ایرویز کا ماہانہ میگزین ہائی لائف (Highlife) تھا۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page