امریکہ کا سفر
Urdu book, p. 308
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ کانفرنسیں وہ ہیں جو خاص طور پر مختلف مذاہب کے تحت منعقد کی گئیں۔ وہ اجتماعات ان کے علاوہ ہیں جو اصلاً مسلمانوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں اور ان میں غیر مسلم بھی شریک ہو جاتے ہیں۔ ایسے اجتماعات میں بھی مجھے بار بار اسلام کی عمومی دعوت پیش کرنے کا موقع ملا ہے ، مگر اس فہرست میں ان کا ذکر نہیں۔ جنیوا کی کانفرنس ( ۷ - ۹ دسمبر ١٩٨٦) کے موقع پر میں نے جو انگریزی مقالہ پیش کیا ، منتظمین کی طرف سے اس کی فوٹو کاپی کر کے تمام لوگوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا گیا ۔ اس مقالہ کا عنوان تھا : Religious Liberty in Islam یہ تقریباً آدھ گھنٹہ کا مقالہ تھا۔ اس میں میں نے قرآن اور حدیث اور اسلامی تاریخ کے حوالوں سے دکھایا کہ اسلام اگر چہ اس کا قائل نہیں کہ سچائی کئی ہے یا کئی ہو سکتی ہے۔ اسلام کے نزدیک سچائی صرف ایک ہے۔ اس کے باوجود اسلام اس کا قائل نہیں کہ سچائی کو منوانے کے لیے جبر کیا جائے۔ سچائی کو بزور منوانا سچائی کی توہین ہے۔ اس دنیا میں لین دین کا اصول رائج ہے۔ اس لیے اگر ہم اپنے لیے فکر کی آزادی چاہتے ہوں تو ہمیں دوسروں کو بھی فکر کی آزادی دینی ہوگی۔ دوسری بات یہ کہ سچائی وہ ہے جو آدمی کو بطور دریافت ملے اور دریافت کے طور پر سچائی کسی آدمی کو اسی وقت ملتی ہے جب کہ وہ آزادانہ طور پر سوچے اور آزادانہ طور پر ایک نتیجہ تک پہنچے۔ مزید میں نے تاریخی حوالوں سے بتایا کہ اسلام ساتویں صدی میں آیا جب کہ عام طور پر ساری دنیا میں مذہبی جبر کا رواج تھا۔ مگر اسلام نے زمانے رواج کے سراسر خلاف مذہبی آزادی کا اعلان کیا۔ اس سلسلہ میں میں نے مختلف تاریخی حوالے نقل کیے۔ مثلاً ایک مستشرق نے لکھا ہے کہ اسلام نے اپنے اقتدار کے زمانہ میں اپنے ماتحت غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی مکمل آزادی دی۔ یہ بات ساتویں صدی کی تاریخ میں انتہائی انوکھی تھی : They were allowed the free and undisturbed exercise of their religion — so striking in the history of the seventh century. اس کانفرنس میں ہر مذہب کے لوگ شریک تھے۔ تاہم عیسائی حضرات کی تعداد زیادہ تھی جو امریکی اور یورپی علاقوں سے آئے تھے۔ یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے ۔ مرتد لوگ بڑے بڑے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader