Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

امریکہ کا سفر

Urdu book, p. 307

By Maulana Wahiduddin Khan

چیزیں ہر آن متحرک ہیں تاکہ وہ انسان کی ضروریات پوری کریں۔ انسان جب سوتا ہے اس وقت بھی کائنات کا کارخانہ اس کے لیے چلتا رہتا ہے اور جب جاگتا ہے اس وقت بھی ۔ انسان کو خبر ہو یا نہ ہو وہ اپنے آپ مسلسل حرکت میں ہے تاکہ انسان کی تمام ضرورتیں فراہم کرے ۔ کیسا عجیب ہوگا وہ خدا جس نے اس عجیب "کائنات گھڑی" کو بنا کر کھڑا کر دیا ۔ کانفرنس میں مختلف ملکوں کے تقریباً ۴۰ آدمی شریک ہوئے ۔ ہر مذہب کے نمائندہ نے اپنے مذہب میں مذہبی آزادی کی اہمیت بتائی۔ پھر مختلف ملکوں میں مذہبی آزادی کی عملی صورت حال پر اظہار خیال ہوا۔ اس کے بعد یورپ، ایشیاء ، افریقہ ، امریکہ کے الگ الگ گروپ بنائے گئے۔ ہر گروپ نے اپنے اپنے براعظم کے اعتبار سے مذہبی آزادی کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔ اس تبادلہ خیال کا خلاصہ ایک مختصر رپورٹ کی صورت میں کانفرنس کے عام اجتماع میں پیش کیا گیا ۔ موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے اجتماعات اور کانفرنسوں کا زمانہ ہے ۔ دنیا بھر میں ہر روز مختلف قسم کے اجتماعات ہوتے ہیں۔ ان اجتماعات میں مسلمانوں کی دینی شخصیتوں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے مگر مسلمانوں کی دینی شخصیتیں عام طور پر صرف مسلمانوں کے اجتماعات میں شرکت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ حتیٰ کہ بیرونی ملکوں میں ان کے اسفار بھی صرف وہاں کے بسنے والے مسلمانوں کے درمیان ہوتے ہیں ۔ راقم الحروف کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس کو مسلمانوں کے علاوہ بار بار غیر مسلم صاحبان کے اجتماعات میں شرکت اور خطاب کے مواقع ملے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ اجتماعات یہ ہیں : ۱۔ آل مذاہب کانفرنس بجور نومبر ۱۹۵۹ ۲۔ وشو دھرسمین الٰہ آباد مئی ۱۹۶۰ ۳۔ ورلڈ فیلوشپ آف ریلیجنز نئی دہلی فروری ۱۹۶۵ ۴۔ انٹرنیشنل سیمینار آن ریلیجن نئی دہلی دسمبر ۱۹۷۳ ۵۔ مسلم کرسچین ڈائیلاگ طرابلس (لیبیا) فروری ۱۹۷۶ ۶۔ اسمبلی آف دی ورلڈ ریلیجنز نیویارک (امریکہ) نومبر ۱۹۸۵ ۷۔ کونسل فار دی ورلڈ ریلیجنز بنگلور جون ۱۹۸۶ ۸۔ ورلڈ کونسل آن ریلیجس برٹی جنیوا (سوئزرلینڈ) دسمبر ۱۹۸۶

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page