ریاض کا سفر
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
ختم کر دیتا تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔ مگر ان اختلافی مسائل پر یہاں نہ کوئی بحث ہوتی اور نہ اختلاف۔ ہر ایک دوسرے کے مسلک پر اعتراض کے بغیر اپنے مسلک کے مطابق نماز پڑھتا اور پھر باہم اس طرح ملتا جیسے ان کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ "مغربی علما" ان "مشرقی علما" سے بہتر ہیں جو انھیں امور پر باہم لڑتے رہتے ہیں حتیٰ کہ دینی مسجدیں اور مدرسے الگ الگ بنا لیتے ہیں۔ یہ دراصل میدانِ اختلاف میں فرق کا سوال ہے نہ کہ خود اختلاف کا۔ مشرقی علما جب کسی مختلف مسلک والے آدمی پر تنقید کرتے ہیں تو وہ کفر و فسق کی اصطلاحوں میں کلام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس مغربی تعلیم یافتہ لوگ اس معاملے میں اپنے مغربی اساتذہ کی نقل کرتے ہیں، وہ اپنی اختلافی شدت کو حسین الفاظ اور خوبصورت اصطلاحات میں چھپا لیتے ہیں۔ ایک نوجوان جو ملیشیا سے آئے تھے۔ جوش و خروش کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ ہم ملیشیا میں ایران کی اسلامی حکومت کے حق میں عوامی رائے کو موبلائز کرنا چاہتے ہیں۔ مگر بعض اسلامی جماعتیں جن کو مخالفت اسلام حکومتوں سے مدد ملتی ہے وہ ہم کو اس سے روکتی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہاں مسلمان دو حصوں میں بٹ گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کے اپنے ملک میں خود بہت سے اہم دینی مسائل ہیں، پھر آپ ان میں اپنی طاقت صرف کیجئے ۔ آپ کو باہر کے مسائل میں اتنا زیادہ اپنے کو شامل کرنے کی کیا ضرورت۔ ان کا جواب یہ تھا: دنیا کی واحد اسلامی حکومت پر طاغوتی طاقتیں حملہ کر رہی ہیں پھر ہم خاموش کس طرح رہ سکتے ہیں۔ اس واقعہ کا ذکر میں نے ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب (آسٹریلیا) سے کیا۔ انھوں نے بہت عمدہ بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ اصل مسئلہ آدمی کی نفسیات (Psyche) کا ہے۔ اور نفسیات صرف دو قسم کی ہوتی ہے یادنیوی یا اخروی۔ آدمی کی نفسیات اگر دنیوی طرز کی ہے تو وہ انھیں مسائل کو اہمیت دے گا جن میں کوئی دنیوی یا سیاسی پہلو ہو۔ وہ ان مسائل کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکتا جو اپنے اندر اخروی پہلو رکھتے ہیں۔ آپ کو سب سے پہلے لوگوں کی نفسیات بدلنی چاہئے۔ اس کے بعد ہی وہ صحیح اسلامی طرز کو اختیار کر سکتے ہیں۔ ۷ اگست کو ہم نے جمعہ کی نماز پارک روڈ پر لندن کی جامع مسجد میں پڑھی۔ کافی بڑی مسجد ہے۔ نمازیوں کی کثرت سے اس کے تمام گوشے بھرے ہوئے تھے۔ منبر کی طویل عربی تقریر دہلی کی جامع مسجد کی اردو تقریر دل سے کچھ مختلف نظر نہیں آئی۔ اس فرق کے ساتھ کہ دہلی میں مسلمانوں پر ہندوستانی ظلم کے خلاف واویلا ہوتا ہے اور وہاں فلسطینیوں پر یہودی ظلم کے خلاف واویلا کیا جا رہا تھا۔ نماز ادا کر کے ہم لوگ باہر نکلے تو ایرانیوں کی ایک جماعت سڑک کے کنارے مسجد کے گیٹ کے پاس کھڑی ہوئی تھی۔ ایک صاحب مجتہد والے لباس میں تھے اور بقیہ مغربی لباس میں۔ یہ لوگ مسلسل نعرے لگا رہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader