ریاض کا سفر
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اگر ان کے گھر کا دباؤ ان پر شدید نہ ہو تو ان کے اندر دوہری شخصیت پرورش پا رہی ہے۔ ایک وہ جوان کے ماں باپ ان کے اندر اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری وہ جو اسکول اور ٹیلی وژن اور ماحول کے اثر سے ان کے اندر پیدا ہو رہی ہے۔ اس صورت حال کا واحد فائدہ جن لوگوں کے حصہ میں آیا ہے وہ مذہبی پیشوا اور قائدین ہیں۔ اس کی وجہ سے ان لوگوں کو ایک نیا شاندار مشغلہ ہاتھ آ گیا ہے۔ لندن میں اور اس طرح کے دوسرے ملکوں میں بیرونی باشندے جو اپنے پردیسی ماحول میں" اجنبیت" کے مسئلہ سے دوچار ہیں، وہ مایوسانہ تدبیر کے طور پر اپنے وطن سے اپنے مذہبی پیشواؤں کو بلاتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے اپنے کچھ مذہبی جلسے یا قومی تقریبات منا کر یہ تسکین حاصل کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے تشخص کو قائم رکھنے کافی انتظام کر لیا ہے۔ اس طرح کی وقتی اور نمائش چیزوں سے اصل مسئلہ تو حل نہیں ہوتا البتہ ان کے پیشواؤں کو اس چیز کا موقع مل جاتا ہے جس کو ایک شخص نے بجاطور پر جھوٹی امیدوں کی تجارت (False Hopes Business) کہا ہے۔ انگلستان میں اور دوسرے مغربی ممالک میں بعض مسائل نہایت عجیب ہیں۔ مثلاً یہاں کتا آدمی کے مقابلہ میں زیادہ قابل لحاظ ہے۔ بے کار کتوں کے لئے کتا گھر (Dogs’ Home) بنے ہوئے ہیں جیسے ہندوستان میں نا کارہ گایوں کے لئے گوشالے بنائے جاتے ہیں۔ تاہم یہاں کے کتا گھر اتنے اعلیٰ اور صاف ستھرے ہوتے ہیں کہ ہندوستان کے گوشالوں سے ان کو کوئی نسبت نہیں۔ یہاں کے مالک مکان ایسے شخص کو اپنا مکان کرایہ پر دینے میں متردد ہوتے ہیں جن کے ساتھ کئی بچے ہوں اس کے مقابلہ میں وہ ایسے بوڑھے کو کرایہ کا مکان دینے پر راضی ہو جاتے ہیں جن کے درمیان تیسرا صرف ایک کتا ہو۔ ان کا خیال ہے کہ کتنا انسان کے بچوں سے زیادہ مہذب ہوتا ہے۔ بچے مکان کو خراب کرتے ہیں جب کہ کتے کے متعلق اطمینان ہے کہ وہ اس طرح رہے گا کہ مکان میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے۔ لندن میں سو سے کچھ اوپر مسجدیں ہیں۔ یہ مسجدیں زیادہ تر رہائشی مکانات کے کمردوں میں قائم کی گئی ہیں۔ البتہ پارک روڈ پر ایک باقاعدہ مسجد تعمیر کی گئی ہے جو کافی وسیع اور شاندار ہے اور اس کے ساتھ کلچرل سنٹر بھی قائم ہے۔ یہاں میں نے ۳ اگست کو عصر کی نماز پڑھی۔ مرکزی لندن کے ایک ہوٹل میں ہمارے لئے قیام کا انتظام تھا، اس میں ایک بڑا کمرہ نماز کے لئے خاص کیا گیا تھا۔ یہاں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جاتی تھی، مختلف ملکوں سے آے ہوئے لوگوں کے مسلک بھی الگ الگ تھے ۔ کوئی ایک ہاتھ کان پر رکھ کر اذان دیتا تھا اور کوئی دونوں ہاتھ ۔ کوئی ہاتھ لٹکا کر نماز پڑھتا تھا کوئی ہاتھ باندھ کر ۔ کوئی نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتا تھا اور کوئی بغیر دعا کے نماز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader