افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 328
By Maulana Wahiduddin Khan
اور قرآن کی آیت (سبحان الذى سخر لنا هذا وما كنا له مقرنین) سے ہوا۔ درمیانی اعلانات میں کبھی ہمیشہ انشاء اللہ کا لفظ شامل رہتا تھا۔ کیپٹن وقار اس کے پائلٹ تھے۔ جہاز کے اندر کا نظام دوسری کئی ہوائی کمپنیوں سے بہتر نظر آیا۔ کراچی سے جہاز بدلنا تھا۔ یہاں دو رات اور ایک دن قیام رہا۔ کراچی میں میرا قیام ایئرپورٹ ہوٹل میں تھا۔ یہ ہوٹل پی آئی اے نے اپنے ٹرانزٹ مسافروں کے لیے بنایا ہے۔ وسیع ہوٹل کے اندر ایک چھوٹی سی بغیر چھت کی مسجد بھی موجود تھی۔ وہ شاندار ہوٹل کے اندر غیر شاندار حالت میں نظر آئی۔ تاہم واپسی کے بعد جب میں دوبارہ ۲۳ ستمبر کو اس ہوٹل میں پہونچا تو معلوم ہوا کہ یہ مسجد دراصل زیر تعمیر تھی۔ چنانچہ واپسی میں وہ اپنی دیوار اور چھت کے ساتھ مکمل کھڑی ہوئی نظر آئی۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سرسری مشاہدہ کی بنیاد پر ایک رائے قائم کر لیتا ہے جس کی تصدیق بعد کے مشاہدہ سے نہیں ہوتی۔ کراچی ایئرپورٹ پر ایئرپورٹ کے شایان شان چھوٹی سی خوبصورت مسجد موجود تھی، یہاں ہم نے سکون کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔ پچھلے پندرہ سال سے ایک عجیب و غریب عمل ساری دنیا میں جاری ہے جس کو فضائی قزاقی (Hijacking) کہا جاتا ہے۔ ۱۲ ستمبر کی شام کو میں کراچی ایئرپورٹ پر اترا تو اس سے صرف چند دن پہلے (۵ ستمبر ۱۹۸۶ء) کو پان ایم کی فلائٹ ۷۳ کے ساتھ اسی قسم کا ایک دہشت خیز واقعہ یہاں ہو چکا تھا۔ آج کل ہوائی اڈوں پر مسافروں کی زبردست چیکنگ ہوتی ہے۔ اس کے باوجود کیے ممکن ہوتا ہے کہ لوگ آتشیں ہتھیار لے کر ہوائی جہازوں کے اندر داخل ہو جائیں، یہ بات آج تک میری سمجھ میں نہ آسکی۔ اگر چیکنگ کا موجودہ نظام اس کو روکنے کے لیے ناکافی ہے تو پھر ہزاروں بے قصور مسافروں کو اس سخت عمل سے گزارنے کا جواز کیا ہے جس کو سکیورٹی چک کہا جاتا ہے۔ کیا اس کا مقصد یہ ہے کہ گنہگاروں کی سزا بے گناہوں کو دی جائے ۔ فضائی قزاقی سے نمٹنا ایک بے حد نازک کام ہے۔ کسی ملک کی مسلح پولیس ہوائی جہاز کے اندر داخل ہو کر ان کو چند منٹ میں ہلاک کر سکتی ہے۔ مگر نزاکت یہ ہے کہ فضائی قزاقوں کے ہاتھ میں خطرناک ہتھیار ہوتے ہیں۔ جب ان پر وار کیا جائے گا تو وہ بھی ضرور اپنا ہتھیار استعمال کریں گے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader