افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 327
By Maulana Wahiduddin Khan
بالکل سنائی نہیں دیتی تھی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کافی کوشش کے باوجود گفتگو نہ ہوسکی ۔ اس ایر پورٹ پر جو خصوصی اہتمام کیے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایر پورٹ کی دیواروں پر ہندوستان کی ہوا بازی کی کہانی مصور کی گئی ہے ۔ یہ تصویر کشی انتہائی اعلیٰ مصوروں نے کی ہے، مثلاً ایم ایف حسین اور کے کیمپ راج ۔ اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستانی ہوا بازی کی کہانی کا آغاز دیو مالائی قصوں سے کیا گیا ہے جب کہ دیوتا اپنے پشپ ویجان (Flowercraft) میں سوار ہو کر سفر کرتے تھے اور اس کا آخری منظر اس مرحلہ پر ختم ہوتا ہے جب کہ سلائٹ اور کمپیوٹر ہوا بازی کے عمل میں اہم رول ادا کر رہے ہیں ۔ (ٹائمز آف انڈیا ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۵) ماضی پرستی کے ساتھ مستقبل پسندی کی اسی ذہنیت پر اقبال احمد سہیل مرحوم نے یہ شعر کہا تھا : آگے ہیں قدم پیچھے ہے نظر جانا ہے کہاں جاتے ہیں کدھر مبہم ہے یہاں خود سمت سفر نیرنگ زمانہ کیا کہیے انڈر گاندھی انٹر نیشنل ایر پورٹ پر آرٹ ورک کا کام اعلیٰ پیمانہ پر کیا گیا ہے ۔ اس آرٹ ورک کے لیے ابتداڑ تین لاکھ روپے کی منظوری دی گئی تھی مگر " ماہرین " نے حکومت کو مطلع کیا کہ تین لاکھ روپیہ پیشِ نظر کام کے لیے بہت ناکافی ہے ۔ اس کے بعد حکومت نے زبردست فیاضی کا ثبوت دیتے ہوئے تین ملین (۳۰ لاکھ) روپے اس کے لیے منظور کر دیے ۔ اس ۳۰ لاکھ روپے کے منصوبہ کا ٹھیکہ لینے کے لیے بہت سے امیدوار دوڑ دھوپ کر رہے تھے ۔ مگر اس کا ٹھیکہ جس کو ملا وہ مشہور مسلم آرٹسٹ ایم ۔ ایف حسین تھے ۔ مسٹر حسین کو ٹھیکہ ملنے کی وجہ ان کی فنی مہارت کے علاوہ یہ بھی تھی کہ پہلے انھیں ایر پورٹ کا ایک جزئی کام دیا گیا تھا جس کو انھوں نے وقت سے کافی پہلے مکمل کر دیا (ہندوستان ٹائمز ۳ دسمبر ۱۹۸۵) آدمی اگر کسی اعتبار سے امتیازی کار کردگی کا مقام حاصل کر لے تو وہ تعصب اور تنگ نظری سے بلند ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنا اعتراف پا کر رہتا ہے، خواہ وہ ایک فرقہ کا آدمی ہو یا دوسرے فرقہ کا۔ افریقہ کا یہ سفر براستہ کراچی ہوا ۔ دہلی سے کراچی تک کا سفر پی آئی اے کے ذریعہ طے ہوا۔ جہاز کے اندر پی آئی اے کا میگزین ہم سفر (ستمبر۔ اکتوبر ۱۹۸۶) دیکھنے کو ملا۔ اس کا نصف حصہ اردو زبان میں تھا اور نصف حصہ انگریزی زبان میں ۔ جہاز کے اعلانات کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader