Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 330

By Maulana Wahiduddin Khan

کی مسلسل اڑان کے بعد ہم کو منزل پر پہنچنا تھا۔ مگر چند گھنٹے کے بعد خطرے کا الارم بجنے لگا۔ پھر اعلان ہوا کہ بعض "مکلنکل سبب" کے تحت جہاز درمیان میں اتارا جا رہا ہے۔ دوران پرواز پائلٹ نے عمان ائیرپورٹ سے رابطہ قائم کیا اور اس سے اجازت لے کر جہاز کو نیچے اتارنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ عمان کے ہوائی اڈہ پر اترا گیا۔ جیسے ہی جہاز کے پہئے نے زمین کو چھوا، مسافروں نے خوشی کے اظہار کے طور پر تالیاں بجائیں۔ کیوں کہ یہ بھی ممکن تھا کہ جہاز ہوائی اڈہ پر اترنے کے بجائے کسی کھڈ میں جاگرے۔ عمان (اردن) میں ہم ساڑھے سات گھنٹہ تک رکے رہے۔ جہاز کے ایک انجن نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ انجینیروں نے مسلسل محنت کر کے اس کو درست کیا، اس کے بعد جہاز دوبارہ آگے کے لیے روانہ ہوا۔ تقریبا دو سو مسافر عمان کے ہوائی اڈہ پر پہنچا دیئے گئے۔ عمان کا ہوائی اڈہ چھوٹا مگر خوبصورت ہے۔ یہاں ہم نے دو نمازیں پڑھیں، ایک ظہر کی اور دوسری عصر کی۔ میں نے دیکھا کہ مسافروں کی اکثریت یا تو باتیں کر رہی ہے یا سگریٹ کا دھواں اڑانے میں مشغول ہے۔ کوئی چپ کی دنیا میں مشغول ہونے والا نظر نہ آیا۔ جن لوگوں کے پاس اپنے آپ سے باتیں کرنے کے لیے کچھ نہ ہو وہ بیرونی کلام میں مشغول ہوتے ہیں۔ جن کو اپنے اندر سفر کرنے کے لیے راستہ نہ ملے، وہ باہر کے راستوں پر دوڑتے ہیں۔ عمان کے ساڑھے سات گھنٹے بڑے سخت گزرے۔ بظاہر وہاں کوئی تکلیف نہ تھی۔ کھانے پینے کا انتظام بھی موجود تھا۔ آرام دہ نشستیں تھیں جن پر کوئی بیٹھا تھا اور کوئی لیٹا ہوا تھا۔ ضروریات کا تمام سامان مہیا تھا۔ مگر مجھ پر الانتظار اشتدّمن الموت کی کیفیت طاری تھی۔ میں نے کہا: خدایا، عاجز انسان خیالی تکلیف کو بھی برداشت نہیں کر سکتا، پھر آخرت میں وہ حقیقی تکلیف کو کس طرح برداشت کرے گا۔ عمان کے ہوائی اڈہ پر بڑے بڑے فریموں میں تاریخی آثار (الکرک، جرش، عقبہ، موئہ وغیرہ) کی تصویریں کثرت سے لگی ہوئی تھیں۔ موجودہ اردن کی تجارتی یا تمدنی اعتبار سے کوئی اہمیت نہیں ۔ مگر تاریخی اعتبار سے وہ زبردست اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں سیاح کثرت سے تاریخی آثار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page