افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 331
By Maulana Wahiduddin Khan
کو دیکھنے کے لیے آتے رہتے ہیں ۔ عمان اردن کی راجدھانی ہے ۔ جون ، ۱۹۶۷ میں عرب ۔ اسرائیل جنگ ہوئی تھی۔ اس جنگ میں اسرائیل نے دوسرے علاقوں کے علاوہ ، دریائے اردن کا مغربی حصہ اور یروشلم کا اردنی سکرٹ اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ اسرائیل کے اس زیر قبضہ علاقہ کا رقبہ ۷ ، ۲۲ مربع میل ہے ، یعنی اردن کے پورے رقبہ کا ۶ فی صد۔ اس مقبوضہ علاقہ میں اردن کا تقریباً نصف قابلِ زراعت حصہ شامل ہے ۔ اردن میں ۳۰۰ سال قبل مسیح کے آثار پائے جاتے ہیں ۔ ۱۴ ستمبر کی شام کو ہم طرابلس پہنچے ۔ یہاں کے وقت اور ہندوستان کے وقت میں ساڑھے تین گھنٹہ کا فرق ہے۔ طرابلس کا لفظ ٹرپولی (Tripoli) کی تعریب ہے ۔ اور ٹرپولی ٹرائی پولس (Tripolis) سے بنا ہے ۔ یہ نام اس کو ابتداً فینقیوں نے دیا تھا۔ Tri کا مطلب یونانی اور لاطینی میں تین ہوتا ہے ۔ ٹرائی پولس کے معنی تین شہر کے ہیں ۔ یہی لفظ بعد کو انگریزی میں ٹریپولی ہو گیا۔ یہ شہر ساتویں صدی قبل مسیح میں فینقیوں (Phoenicians) نے بسایا تھا۔ اس کے بعد وہ رومیوں کے قبضہ میں آیا ۔ انھوں نے بھی یہ نام باقی رکھا۔ فینقیوں کا یہ طریقہ تھا کہ وہ شہر کو تین حصے کی صورت میں آباد کرتے تھے ، اور اس بنا پر اس کا نام تین شہر ( ٹرائی پولس ) رکھتے تھے ۔ یہاں میرا قیام فندق باب البحر (کمرہ نمبر ۵۱۹) میں تھا۔ یہ ہوٹل سمندر (میڈیٹرینین) کے عین کنارے بنایا گیا ہے۔ کمرہ کے ایک طرف سمندر کی لہریں حدِ نظر تک پھیلی ہوئی نظر آتی تھیں ۔ یہاں قدرت کی اٹھا رہ خاموشی کو صرف وہ مشینیں توڑتی تھیں جو صبح سویرے سے اپنے کام میں لگ جاتی تھیں ۔ ان کا کام تھا ، سمندر کے ساحلی حصہ کو پاٹ کر خشک زمین میں تبدیل کرنا تا کہ وہاں تعمیرات کھڑی کی جا سکیں ۔ قدیم ترین زمانہ میں آدمی خشکی پر سفر کرتا تھا ، پھر اس نے کشتی اور جہاز بنائے اور سمندروں کے ذریعہ زیادہ آسانی کے ساتھ دور دور کا سفر کیا جانے لگا۔ اب انسان فضا میں مزید تیز رفتاری کے ساتھ ہوائی جہازوں کے ذریعہ سفر کرتا ہے ۔ ان چیزوں کو مورخین انسانی ترقی کے عنوان کے تحت بیان کرتے ہیں۔ مگر ان کو آلات اللہ کے عنوان کے تحت بیان کیا جانا چاہیے ، یہ دراصل خدا ہے جو انسان کو سفر کراتا ہے۔ خشکی اور سمندر اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader