افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 334
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ کریں وہ بلند مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ مقالہ (اسلام دور جدید میں) انشاء اللہ الرسائل میں شائع کر دیا جائے گا۔ یہ مقالہ کانفرنس کی طرف سے تین زبانوں میں تقسیم کیا گیا ـــــــــ عربی ، انگریزی ، فرانسیسی ۔ یہ عالمی موتمر ۱۵ ستمبر سے ۲۰ ستمبر تک جاری رہی۔ موتمر کی صورت یہ تھی کہ مختلف اہل علم کو پیشگی طور پر متعین موضوعات بھیج دیئے گئے تھے۔ میرے محاضرہ کا عنوان تھا : حاجة للمسلمين الى الاخذ بابسباب التقدم العلمي والتقنى ہر نشست میں ضروری رسمی کارروائیوں کے بعد محاضر اپنا محاضرہ پیش کرتا۔ اس کے بعد لوگوں کو اظہار خیال کا موقع دیا جاتا۔ آخر میں محاضر لوگوں کے سوالات کا جواب دیتا۔ میرے محاضرہ میں ایک بات یہ کہی گئی تھی کہ توحید اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ توحید کو ماننے ہی کے نتیجہ میں ہمارے اسلاف نے بڑے بڑے سائنسی کارنامے انجام دیئے۔ اس پر ترکی کے ایک پروفیسر نے سوال کیا کہ توحید میں اور سائنسی ترقیوں میں کیا تعلق ہے ۔ میں نے کہا کہ توحید محض ایک رسمی عقیدہ نہیں ، وہ ایک ذہنی و فکری انقلاب ہے ، بلکہ سب سے بڑا فکری انقلاب ہے۔ اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تمام علمی ترقیاں ذہنی انقلاب ہی کے ذریعہ پیدا ہوتی ہیں۔ ذہنی انقلاب آدمی کی پوری شخصیت کو جگا دیتا ہے۔ اس کی تمام سوئی ہوئی صلاحیتیں بروئے کار آ جاتی ہیں اور اسی کے نتیجہ کا نام عملی ترقی ہے۔ ہمارے اسلاف کے لیے توحید ایک عظیم ذہنی انقلاب تھی ، اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ اس مقابل بنے کہ ہر قسم کی اعلیٰ ترین ترقیاں حاصل کریں۔ مسلمانوں کی موجودہ نسل کے لیے توحید محض ایک رسمی عقیدہ ہے اس لیے وہ جدید دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ بھی انجام نہ دے سکے ۔ محاضرات کے علاوہ دعوت اور احوال مسلمین کے بارے میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں۔ مختلف ملکوں میں اسلامی دعوت کی صورت حال کا جائزہ لیا گیب۔ اور اس کی روشنی میں پروگرام بنائے گیے ۔ ۱۸ ستمبر ۱۹۸۶ کی نشست میں راقم الحروف کو صدر ( رئیس الجلسہ ) بنایا گیا۔ ایک عربی مجلے نے میرا تفصیلی انٹرویو لیا جو اس کی اگلی اشاعت میں شائع ہوگا ۔ بعض اور جرائد انٹرویو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader