افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 333
By Maulana Wahiduddin Khan
کا یہ حال تھا کہ پروگرام کے تحت ہونے والی نمازوں (مثلاً مغرب) میں تو وہ مسجد میں نظر آتے تھے۔ مگر اس کے بعد ان کو مسجد میں پانا بہت مشکل تھا۔ چنانچہ میں نے ان کو نہیں دیکھا کہ وہ کبھی فجر کی جماعت میں شریک ہوئے ہوں، یہاں مغرب کی جماعت میں سب سے زیادہ آدمی ہوتے تھے اور فجر کی جماعت میں سب سے کم۔ اس کانفرنس میں تقریباً ۸۵ ملکوں کے ۴۰۰ علما اور دانشور شریک ہوئے۔ کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے صدر جلسہ نے کہا : نحن هنا من كل انحاء العالم الاسلامي بل من كل انحاء العالم یہ کانفرنس دعوت اسلامی کے موضوع پر تھی۔ یہی ایک جذبے کے کہ ہر شخص اس میں شریک ہوا تھا کہ اسلام کی دعوت کو از سر نو زندہ اور غالب کیا جائے۔ مگر یہاں اور دوسرے مواقع پر گفتگو کے بعد میرا تاثر یہ ہے کہ اس وقت ساری دنیا میں مسلمان ایک ہی قسم کے ذہنی انتشار سے دوچار ہیں۔ اور وہ یہ کہ وہ دعوت اسلام اور دفاع اسلام کو الگ الگ کر کے دیکھ نہیں پاتے۔ وہ دعوت کے عنوان پر بولنا شروع کرتے ہیں اور اس کے بعد جلد ہی دفاع کے موضوع پر پہونچ جاتے ہیں اور پھر تقریر کی پوری ٹرین دفاع کے موضوع پر چلتی ہے اور اسی پر ختم ہو جاتی ہے۔ یہاں کئی ایسے لوگ ملے جو الرسالہ (انگریزی) کے قاری تھے۔ ہر ایک نے غیر معمولی الفاظ میں اس کی زبان و بیان کی خوبیوں کا اعتراف کیا۔ ایک امریکی نو مسلم سے میں نے الرسالہ (انگریزی) کے بارے میں ان کا تاثر پوچھا تو وہ بار بار ممتاز ممتاز (Excellent, Excellent) کہتے رہے۔ افریقہ میں جو لوگ الرسالہ (انگریزی) کا افریقی ایڈیشن نکال رہے ہیں، ان میں سے ایک صاحب یہاں آئے ہوئے تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ افریقہ میں الرسالہ (انگریزی) کی مقبولیت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ لوگ بہت شوق سے اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ میرا مقالہ ۱۶ستمبر ۱۹۸۶ء کی نشست میں تھا۔ یہ مقالہ عربی میں تھا اور اس میں دکھایا گیا تھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے آج کے دور میں اپنی نفع بخش کھودی ہے۔ خدا کا قانون اس دنیا کے لیے یہ ہے کہ جو شخص یا گروہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے اس کو عزت اور استحکام ملے۔ مسلمان جب تک اپنے آپ کو اس قانون کا مصداق ثابت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader