Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 337

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نام روانہ کیا جائے ۔ تجویز یہ تھی کہ دونوں ممالک شہروں میں جنگ کو بند کر دیں ۔ اس تجویز میں ابتدائے ایقاف الحرب فی المدن (شہروں میں جنگ نہ کرنے) کا لفظ تھا ۔ دوسرے شخص نے پرجوش طور پر کہنا شروع کیا کہ نہیں ، بلکہ ضرورت ہے کہ یہ جنگ مکمل طور پر بند ہو ، اس لیے تجویز میں ایقاف الحرب نہائی کا لفظ لکھا جائے ۔ اب اس پر بحث چل پڑی کہ یہ لفظ لکھا جائے کہ وہ لفظ لکھا جائے ۔ اور کافی دیر تک اس پر تکرار ہوتی رہی ۔ یہ طے شدہ ہے کہ اس تجویز کے نتیجہ میں نہ شہروں کی جنگ رکنے والی ہے اور نہ یہ ہونے والا ہے کہ اس کے ایران اور عراق پر پہنچتے ہی جنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے ۔ اس قسم کے واقعات حقائق کے زور پر ایک یا دوسری صورت میں فیصل ہوتے ہیں نہ کہ الفاظ کے زور پر ۔ سوڈان کے ایک عالم اسٹیج پر آئے ۔ ان کو ایک محاضرہ پر اپنی رائے کا اظہار کرنا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ اس محاضرہ میں بہت سی غلطیاں کی گئی ہیں ۔ میں ان کی تصحیح کرنا چاہتا ہوں ۔ مگر پروگرام کے مطابق چون کہ بہت کم وقت دیا گیا ہے ، اس لیے میں محاضرہ کو اس کی صرف ایک غلطی کی طرف متوجہ کروں گا ۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ محاضرہ نے اپنے لکچر میں قرآن کی آیت انی جاعل فی الارض خلیفة کا ذکر کیا ہے اور اس کی تشریح یہ کی ہے کہ قوم يخلف بعضهم بعضا ۔ انھوں نے پر جوش طور پر کہا کہ خلیفہ کا یہ مفہوم غریب مفہوم ہے ۔ میں نے تفسیر کی جتنی کتب دیکھی ہیں ان میں سے کسی کتاب میں یہ معنی مذکور نہیں : لم يرد هذا المعنى في اى كتاب من كتب التفسير اطلعت عليه یہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ اکثر لوگ اپنی بے خبری کو یقین کا قائم مقام بنا لیتے ہیں ۔ حالاں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ خلیفہ کا مذکورہ مفہوم واضح طور پر تفسیر کی کتابوں میں موجود ہے ۔ ترکی کے نمائندہ استاد اوغلونے عربی زبان کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ اسلامی کانفرنسوں میں میں نے دیکھا ہے کہ عربی زبان کے بعد جو دوسری زبانیں استعمال ہوتی ہیں وہ انگریزی اور فرانسیسی زبانیں ہیں ۔ میری تجویز ہے کہ اس صورت حال کو بدلا جائے ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ مسلم نسلوں کو ترکی اور اردو زبانیں پڑھائی جائیں جو کہ دوسروں مسلمانوں کی زبانیں ہیں ۔ اس طرح ترکی اور اردو دھیرے دھیرے عربی کے بعد استعمال ہونے والی زبانیں بن جائیں گی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page