افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 338
By Maulana Wahiduddin Khan
بظاہر یہ ایک بہت اچھی تجویز معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف ایک تمنا ہے جو عملاً ممکن نہیں۔ اصل یہ ہے کہ مادری زبان کے بعد دوسری زبانیں جو آدمی سیکھتا ہے وہ ہمیشہ مادی عوامل کے تحت سیکھتا ہے۔ انگریزی یا فرانسیسی اسلامی کانفرنسوں کی سیکنڈ لینگویج اس لیے بنی ہوئی ہے کہ لوگوں کے مادی مصالح انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان زبانوں کو سیکھیں۔ جب تک کوئی ایسا انقلاب نہ آئے جو ترکی اور اردو جیسی زبانوں کو وہی مقام دیدے جو انگریزی زبان کو یا فرانسیسی زبان کو عالمی سطح پر حاصل ہے، اس وقت تک اس قسم کی کسی تجویز کا واقعہ بننا ممکن نہیں۔ مفتی شام (حلب) نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں اپنے پچاس سال کے تجربات (تجارب خمسين سنة) کی روشنی میں کہتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی تحریکوں کی ناکامی کی اصل وجہ اسلامی داعیوں کا عنف (شدت) ہے۔ انھوں نے ہر ملک میں غیر ضروری طور پر مسلم حکمرانوں سے ٹکراؤ کیا۔ اس کے نتیجہ میں اسلامی داعیوں اور مسلم حکمرانوں کے درمیان لامناہی جنگ چھڑ گئی۔ اگر اسلامی داعیوں نے مسلم حکمرانوں سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار نہ کی ہوتی تو آج اسلامی دعوت کی تاریخ دوسری تاریخ ہوتی۔ یہی بات جمہوریہ یوگنڈا کے نائب صدر الحاج موسیٰ ٹکانگونے دوسرے انداز سے کہی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہمیں اسلامی دعوت کو ترقی دینا ہے تو ہم کو کبھی بھی مذہب کے ساتھ سیاست کو نہیں ملانا چاہیے۔ دوسری مسلم کانفرنسوں کی طرح یہاں بھی میں نے کسی مقرر کی آواز میں درد کی جھلک نہیں پائی۔ اس میں میرے احساس کے مطابق صرف ایک استثناء تھا۔ اور وہ ڈاکٹر محمود ایوب (لبنان) کا تھا۔ وہ دونوں آنکھ سے محروم تھے اور سہارا دے کر اسٹیج پر لائے گیے تھے۔ اس نابینا مقرر کی آواز میں مجھے درد اور سوز محسوس ہوا مگر بینا مقررین میں سے کسی کی آواز میں میں نے درد اور سوز کی کیفیت نہیں پائی۔ یہ درد جو ایک شخص کے اندر حیاتیاتی صدمہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا، کاش یہی درد امت کے رہنماؤں کے اندر امت پر گزرنے والے صدمہ کی بنا پر پیدا ہو جائے تو سارا نقشہ اپنے آپ بدل جائے۔ ڈاکٹر محمود ایوب (لبنان) نے عربی میں بولتے ہوئے ایک شخص کے سوال کا حوالہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader