Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 341

By Maulana Wahiduddin Khan

سرینام کی مجموعی آبادی میں بیس فی صد مسلمان ہیں۔ اور پورے ملک میں ایک سو سے زیادہ باقاعدہ مسجدیں موجود ہیں ۔ رپورٹ کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے : سرینام میں مسلمانوں کی مہاجرت ۷ ا ویں صدی عیسوی میں ہوئی ۔ جب کہ یورپ کے بردہ فروش افریقی غلاموں کو لے آئے تاکہ وہ یہاں کے کھیتوں میں کام کر سکیں ۔ ان افریقیوں میں اکثر مسلمان تھے اور جب وہ یہاں آئے تو انھوں نے پوری کوشش کی کہ وہ اپنی دینی حیثیت کو باقی رکھ سکیں ۔ یہ واقعہ جس کا ذکر یہاں سرینام کے ذیل میں کیا گیا ہے ، یہی موجودہ زمانہ میں تمام دنیا میں پیش آیا۔ موجودہ زمانہ میں جب مغربی قومیں ابھریں اور انھوں نے تمام دنیا کو زیر کر لیا تو وہ اپنے مقبوضہ ملکوں ( ہندوستان ، افریقہ وغیرہ ) سے لاکھوں انسانوں کو لے گیے تاکہ انھیں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں بطور مزدور استعمال کر سکیں ۔ اس طرح مسلمان اچانک ساری دنیا میں پھیل گیے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں آسٹریلیا سے لے کر باربیڈوز تک ہر جگہ مسلمانوں کی آبادیاں پائی جاتی ہیں ۔ یہی واقعہ اس سے پہلے تاتاریوں کے زمانہ میں پیش آیا تھا۔ تاتاریوں نے فتح کے بعد کثیر تعداد میں مسلمان عورتوں اور مسلمان مردوں کو غلام بنایا۔ تا ہم اس وقت لوگوں کے اندر اسلام زندہ تھا ۔ یہ مسلمان مرد اور عورت جہاں پہنچے وہاں انھوں نے تاتاریوں کے درمیان خاموش تبلیغ شروع کردی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف دو نسل کے اندر بیشتر تاتاری مسلمان ہو کر اسلام کے پاسبان بن گیے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اگر دعوتی ذہن ہوتا تو وہی واقعہ دوبارہ نئی شکل میں پیش آتا جو تاتاریوں کے زمانے میں پیش آیا۔ جن مغربی قوموں کو اسلام دشمن قرار دے کر ہم ان کے خلاف بے معنی احتجاج میں مشغول ہیں ، وہ قومیں آج اسلام کے دائرہ میں داخل ہو کر اسلام کی پاسبان بن چکی ہوتیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page