Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۸ ستمبر کی شام کو ایک ہندوستانی مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ لندن سے روانہ ہو کر یہاں پہونچے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ دہلی میں دوبارہ فساد ہو گیا ہے۔ اور اس فساد کا رخ مسلمانوں کی طرف ہے۔ اگر چہ بعد کی تحقیق نے بتایا کہ یہ خبر صحیح نہ تھی ۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کا سارا غصہ ہمیشہ "فسادیوں" کے خلاف ہوتا ہے۔ مگر ذاتی طور پر میں ان فسادات کا ذمہ دار مسلمانوں کو سمجھتا ہوں ۔ اس لیے میرے تمام احساسات کا رخ صرف مسلمانوں کی طرف رہتا ہے۔ مجھے مسلمانوں کی حالت پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ حقائق کی دنیا میں حقائق سے بالکل بے پروا ہو کر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ ان فسادات کی جڑ میرے نزدیک یہ ہے کہ مسلمانوں نے ملک کو تقسیم کرایا ، مگر وہ تقسیم کے نتائج قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ملک کو "ہندو انڈیا" اور "مسلم انڈیا" میں تقسیم کرنے کا لازمی مطلب یہ تھا کہ مسلمان "ہندو انڈیا" میں اپنے لیے نمبر ۲ کی حیثیت قبول کرنے پر راضی ہیں۔ اگر مسلمانوں نے خود اپنے عمل کے اس نتیجہ کو، ۱۹۴۷ کے بعد قبول کر لیا ہوتا تو حالات معمول پر آجاتے اور ملک کی تاریخ فرقہ وارانہ فساد کے بجائے فرقہ وارانہ تعمیر کی تاریخ ہوتی ۔ دو واضح ہو کہ نمبر ۲ کی حیثیت کا مطلب مسلمانوں کا درجہ گرانا نہیں ، بلکہ صرف حقیقت واقعہ کا اعتراف کرنا ہے) مگر ملک کی جدید تاریخ کا یہ عجیب حادثہ ہے کہ پاکستان کے ایک کروڑ سے زیادہ ہندوؤں نے پاکستان میں اپنے لیے عین اسی حیثیت کو قبول کر لیا جو نئے حالات کا تقاضا تھا، حالاں کہ انھوں نے تقسیم کا مطالبہ نہیں کیا تھا ۔ مگر ہندوستان کے مسلمان ہندوستان میں اپنے آپ کو نئے حالات کے مطابق بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے ، اگر چہ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے یک طرفہ طور پر تقسیم کی تحریک چلائی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان تقسیم سے پہلے جن خود ساختہ مسائل سے دوچار تھے ، تقسیم کے بعد بھی وہ انھیں خود ساختہ مسائل میں مبتلا ہیں۔ حقیقت واقعہ کا اعتراف اس دنیا میں آدمی کے لیے زندگی کے دروازے کھولتا ہے ۔ ہندوستانی مسلمان حقیقت واقعہ کے اعتراف کے لیے تیار نہیں ، اس لیے زندگی کے دروازے بھی اب تک ان کے لیے نہیں کھلے۔ مسلمانوں نے اس ملک میں چالیس قیمتی سال کھو دیے ہیں ۔ اگر وہ اپنے مزاج کو نہ بدلیں تو وہ اگلے چالیس سال بھی کھودیں گے۔ موجودہ مزاج کے ساتھ مسلمانوں کے لیے اپنے مستقبل کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page