Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 344

By Maulana Wahiduddin Khan

تقریباً ۳۰ فی صد ہیں۔ اسلام وہاں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ ہر روز کچھ نہ کچھ لوگ اسلام قبول کرتے ہیں، وہاں کی حکومت سیکولر ہے اور وہ مذہبی تبلیغ کی مکمل آزادی دیئے ہوئے ہے ۔ البتہ اکثر افریقی ملکوں کی طرح وہاں بھی یہ مسئلہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی سماجی کام نہیں۔ وہاں کی مسیحی تنظیموں نے کثیر تعداد میں اسکول کالج اور اسپتال کھول رکھے ہیں۔ حتی کہ وہ نہریں نکالنے اور زراعت کو ترقی دینے میں عوام کی مدد کرتے ہیں۔ دوسری طرف مسلمان سماجی خدمات کے ان میدانوں میں بالکل صفر کے درجہ میں ہیں۔ مسلمانوں کی اس کمی کی وجہ سے ان کو عزت کا مرتبہ حاصل نہیں ۔ ایک آدمی اگر کوئی کام نہ کرے تو وہ حقیر سمجھ لیا جاتا ہے : اَلْوَاحِدُ اِذَا لَمْ يَعْمَلْ يُحْتَقَرُ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو برطانیہ سے آئے تھے ۔ وہ اصلاً ہندوستانی ہیں اور برطانیہ میں ۲۰ سال سے کسی مسجد کے امام ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے مسلمان پہلے نہایت سکون کے ساتھ رہ رہے تھے۔ مگر جب سے وہاں علما کرام پہونچے ہیں، مسلمانوں کے آپس کے دینی جھگڑے بہت بڑھ گئے ہیں۔ مسلمان گروہ وہلوں گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر گروہ دوسرے گروہ کی کاٹ میں لگا رہتا ہے اور یہ سب ہمارے علما رکرام کی دین ہے ۔ انھوں نے اپنا قصہ بتایا کہ میری مسجد کے نمازیوں میں سے ایک پاکستانی نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ میں ہندوستان کا ایجنٹ ہوں ۔ وہ صاحب مسجد کمیٹی کے ممیر تھے۔ ایک بار انھوں نے کمیٹی کے اجلاس کا اعلان کر دیا۔ ان کا ارادہ تھا کہ اس اجلاس میں میرے خلاف تجویز پاس کر کے مجھے مسجد کی امامت سے علیحدہ کر دیا جائے ۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے کمیٹی کے اجلاس کی براہ راست مخالفت نہیں کی ۔ بس خاموشی کے ساتھ یہ کیا کہ کوشش کر کے اجلاس کی تاریخ آگے بڑھوا دی تا کہ مجھ کو اجلاس سے پہلے ایک جمعہ مل جائے ۔ کمیٹی کے ممبران میں پاکستانی افراد کی اکثریت تھی ۔ جب کہ نمازیوں میں تقریباً ۵۰ فی صد ہندوستانی تھے اور ۵۰ فی صد پاکستانی ۔ جمعہ کے دن تمام لوگ جمع ہوئے تو میں نے مفصل تقریر کی اور اس تقریر میں ہندوستانی مسلمانوں کی وہ قربانیاں بتائیں جو انھوں نے پاکستان کے قیام کے لیے کی ہیں اور آج بھی وہ اس کی قیمت دیئے چلے جا رہے ہیں ۔ ان باتوں کا زبردست اثر ہوا اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page