Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 343

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیاب تعیر ممکن نہیں ۔ بنگلہ دیش کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا: مسلم ممالک کا المیہ یہ ہے کہ اس وقت کسی بھی مسلم ملک میں کوئی طاقت ور قائد (ان کے الفاظ میں اسٹرانگ لیڈر) نہیں ۔ میں نے کہا کہ بنگلہ دیش کو تو شیخ مجیب الرحمن کی شکل میں ایک طاقت ور قائد حاصل تھا۔ پھر اس طاقتور قائد نے اپنے ملک کو کیا دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ، وہ طاقت ور قائد تھے مگر انھوں نے ملک کو برباد کیا۔ میں نے کہا کہ اس سے معلوم ہوا کہ قومی تعمیر کے لیے صرف "طاقت ور قائد " کافی نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آج اصل کمی قائد قومی کی نہیں ، اصل کمی وتائید حکیم کی ہے۔ آج ہر مسلم ملک میں ایسے افراد موجود ہیں جن کے پاس طاقت ہے، جن کے پاس وسائل ہیں۔ مگر وہ چیز ان کے پاس نہیں جس کو دانش کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں دانش کی کمی نے مسلم ملکوں کو برباد کیا ہے نہ کہ طاقت کی کمی نے ۔ ایک بار کھانے کے وقت میری میز کے قریب چند بالیش بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی اردو زبان اور موضوع گفتگو سے معلوم ہوا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں اور "دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک بزرگ نے پر جوش طور پر کہا کہ "ہندوستان میں صرف ۱۲ دن کے اندر بچپن ہزار علما ر شہید کر دیئے گئے ۔ میں نے پوچھا کہ حضرت ، اسلام میں شہادت برائے شہادت ہے کہ شہادت کا کوئی مقصد ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہادت کا مقصد بالکل واضح ہے۔ میں نے کہا کہ وہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا : اعلاء کلمتہ اللہ۔ میں نے کہا کہ دورِ اول میں ۵سو سے بھی کم آدمیوں نے شہادت پائی اور اللہ کا کلمہ بلند ہوگیا۔ موجودہ زمانہ میں ۵۵ ہزار بزرگ شہید ہوگئے اور اب تک اللہ کا کلمہ بلند نہ ہوسکا۔ اس پر وہ بگڑ گیے۔ میں نے آگے کلام کو جاری رکھنا مناسب نہ سمجھا اور وہاں سے اٹھ گیا ۔ پاکستان کی پوری آبادی ساڑھے نو کروڑ ہے۔ ان میں مہاجرین کی تعداد تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے۔ غیر مسلم ایک کروڑ اور کچھ لاکھ ہیں۔ کراچی شہر کی آبادی ۷ لاکھ ہے ۔ اس میں مہاجرین کی تعداد تقریباً ۴ لاکھ ہے ۔ ایک صاحب رواندا (وسط افریقہ) سے آئے تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ رواندا میں مسلمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page