افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 347
By Maulana Wahiduddin Khan
بر عکس موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین احساسِ محرومی پر کھڑے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایمان ایک عظیم دریافت کے ہم معنی تھا۔ وہ ہر چیز سے زیادہ عظیم تھا۔ گویا کہ آپ لوگوں سے کہہ رہے تھے: اے لوگو، میرے پاس ایک بہت بڑی چیز ہے۔ میرے پاس آؤ تا کہ میں تم کو وہ چیز دوں۔ اس کے برعکس موجودہ مسلم مفکرین کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی بڑی چیز نہیں۔ گویا کہ وہ لوگوں سے کہہ رہے ہیں : اے لوگو، تم نے ہم سے تمام چیزیں چھین لی ہیں۔ تو تم چھینی ہوئی چیزوں کو ہمیں واپس کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت دینے والے کی تھی اور ہمارے رہنماؤں کی حیثیت مانگنے والوں کی۔ اس فرق کے بعد کیسے ممکن تھا کہ ان کے ذریعہ سے وہ چیز ظہور میں آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ظہور میں آئی : ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم حقق ثورة عظيمة، لا نظير لها في التاريخ الانساني والمفكرون المسلمون المعاصرون عجزوا عن تحقيق اى ثورة ولو بعد بذلهم تضحيات عظيمة - والسبب يرجع الى فرق جوهري بين عمل النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعمل هؤلاء المفكرين ۔ فالنبی قام عمله على احساس الوجدان ، وهم قد قام عملهم على احساس الخسارة والفقدان ۔ ان ايمان الرسول صلی اللہ علیہ وسلم كان له ككتشاف عظيم، يفوق كل شئ ۔ فكانه كان في دعوته يقول : ايها الناس، عندی شئ عظيم۔ تعالوا إلى مناعطيكم منه ۔ وهؤلاء المفكرون ليس عند هم اى شئ ۔ وكانهم يقولون - ايها الناس، انكم سلبتم منا كل شئ فنرد واعلينا الاشياء التى سلبتموها منا۔ فالرسول صلی اللہ علیہ وسلم كان ك الواهب او ك العاطي وهم ك السائلين ۔ فكيف يتاتي لهم ان يحققوا ما حققه الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔ واپسی میں عجیب قصہ پیش آیا۔ کراچی سے ۲۳ ستمبر کی شام کو دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ کراچی سے دہلی کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ جہاز معمول کے مطابق ۱۰ ہزار میٹر کی بلندی پر اڑ رہا تھا۔ یہاں تک کہ ”کرسی کی پیٹی باندھ لیں“ کی علامت روشن ہوئی۔ بظاہر اس کا مطلب یہ تھا کہ اب دہلی قریب آگیا ہے۔ مگر کچھ دیر کے بعد روشنیاں بجھ گئیں۔ اور جہاز بدستور اڑتا رہا، یہاں تک کہ پرواز کی حات میں دو گھنٹہ سے زیادہ گزر گئے۔ ہم اسی تشویش میں مبتلا تھے کہ جہاز کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader