Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 348

By Maulana Wahiduddin Khan

ذمہ داروں کی طرف سے اعلان ہوا کہ خراب موسم کی وجہ سے ہم دہلی کے ایرپورٹ پر نہ اتر سکیں گے، اور اب ہم دوبارہ کراچی واپس جارہے ہیں ۔ تقریباً تین گھنٹہ فضا میں رہنے کے بعد جہاز دوبارہ کراچی کے ایرپورٹ پر اترا۔ تمام مسافر لاؤنج میں بیٹھا دیئے گیے۔ کئی گھنٹے تک انتظار کی غیر یقینی حالت طاری رہی۔ اس کے بعد اعلان ہوا کہ جہاز دوبارہ دہلی کے لیے روانہ ہورہا ہے چنانچہ تمام مسافر دوبارہ جہاز پر سوار ہوئے۔ مقررہ وقت کے مطابق ہم ۵ بجے شام کو دہلی پہونچ جاتے۔ مگر اس افتاد کی وجہ سے ہم رات کو ۱۲ بجے دہلی پہونچے ــــــــ جن ہوائی "حادثات" کا ذکر اس سے پہلے اخباروں میں پڑھا تھا وہ اس سفر میں کم از کم جزئی طور پر میرے ساتھ بھی پیش آگیا۔ ۲۳ ستمبر کو پی آئی اے کا جہاز جب درمیان سے واپس ہوا تو اس کو دوبارہ کراچی ایرپورٹ پر اترنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ کیوں کہ وہ خود اپنے ملک میں اپنے ابرپورٹ پر اتر رہا تھا۔ مگر اس سے پہلے ۱۴ ستمبر کو جب ہمارے جہاز کا ایک انجن فیل ہوگیا بہت اور پائلٹ مجبور ہوگیا تھا کہ وہ اس کو زمین پر اتارے تو اس نے فضا سے وائرلیس کے ذریعہ قریب کے کئی ہوائی اڈوں سے رابطہ قائم کیا۔ مگر ہر ہوائی اڈہ اس کو اترنے کی اجازت دینے سے انکار کرتا رہا۔ آخر میں اس نے عمان ایرپورٹ سے بات کی۔ اس نے بھی ابتداً انکار کیا۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک پائلٹ اور عمان ایرپورٹ کے ذمہ داروں کے درمیان بات چیت ہوتی رہی ۔ پائلٹ نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جہاز پر ۲۰۰ مسافر ہیں۔ آخر میں کیسے ایسا کروں کہ ان کو بے یارو مددگار چھوڑ دوں کہ وہ کسی کھڈ میں جاکر گر جائیں۔ اس گفتگو کے درمیان آدھ گھنٹہ تک جہاز عمان کے چاروں طرف اڑتا رہا۔ آخر کافی کہنے سننے کے بعد عمان ایرپورٹ نے اجازت دی۔ جب ہمارا جہاز ڈگمگاتے ہوئے عمان ایرپورٹ پر اترا تو وہاں مسلح پولیس پورے ایرپورٹ کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے تھی ۔ اس غیر معمولی سلوک کی وجہ فضائی متذاقی ہے ۔ ایسی صورت حال میں ایرپورٹ والے بلاشبہ یہ کرتے ہیں کہ فضائی قذاقوں نے جہاز کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے اور اس کو کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page