Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 349

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر متعلق ایرپورٹ پر اترنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔ جب فضائی قذاقوں کو ایسا کرنا ہوتا ہے تو وہ جہاز کے پائلٹ کو ہدایت کر دیتے ہیں کہ تم ہمارا نام ہرگز نہ لو، بلکہ یہ کہو کہ انجن کی خرابی یا کسی تکنیکل سبب سے ہم جہاز کو اتارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرپورٹ نے ہمارے پائلٹ کے بیان پر یقین نہیں کیا اور اس کو اترنے کی اجازت دینے میں دیر لگائی یہاں بظاہر مجھ کو ہر طرح کا آرام حاصل تھا، مادی اعتبار سے کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ مگر میری روح ہر وقت تڑپتی رہتی تھی۔ اصل یہ ہے کہ دہلی میں اپنے روز مرہ کے کام کے ساتھ میں اتنا زیادہ وابستہ ہوگیا ہوں کہ اس سے باہر نکلتے ہی میرا سکون بالکل چھن جاتا ہے۔ میرا حال اس مچھلی کا سا ہو جاتا ہے جس کو پانی سے نکال کر خشکی میں ڈال دیا گیا ہو۔ چنانچہ بارہ دن کے اس سفر میں شاید ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جب کہ میں نے اپنے اندر سکون واطمینان محسوس کیا ہو۔ اس پوری مدت میں مسلسل میں شدید کرب میں مبتلا رہا۔ یہ کرب صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ میں ۲۴ ستمبر ۱۹۸۶ کو اپنے دہلی کے ماحول میں دوبارہ واپس آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑی چیز نفسیاتی سکون ہے نہ کہ مادی راحت۔ اگر آدمی نفسیاتی بے چینی میں مبتلا ہو تو مادی راحت کے سامانوں کے انبار کے درمیان بھی وہ اس طرح تڑپے گا جیسے وہ آگ کے انگاروں کے اوپر ڈال دیا گیا ہے ۔ نفسیاتی بے آرامی ہر مادی آرام کو بے معنی بنا دیتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page