افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 352
By Maulana Wahiduddin Khan
ہلاک ہوگئی تو کراچی میں مہاجرین نے بگڑ کر پٹھانوں کو مارا اور ان کی گاڑیوں کو جلایا۔ اس کا بدلہ پٹھانوں نے سہراب گوٹھ میں لیا جس کے قریب ” علی گڑھ کالونی “ کے چھ سو مہاجر جلا دیئے گئے یا گولیوں کا نشانہ بنا دئے گئے۔ اس باہمی قتل و خون کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ پاکستان کی تمام بڑی بڑی تحریکوں کی تہہ میں یہی مہاجر اور غیر مہاجر کا مسئلہ پایا جاتا ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے یہاں کی تجارتوں پر ہندو چھائے ہوئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد یہاں زبردست خلا پیدا ہوا۔ اس کو مہاجرین نے بھر پور طور پر استعمال کیا۔ یہاں تک کہ وہ پاکستان کی صنعت و تجارت کے ۸۰ فی صد حصہ پر قابض ہو گئے۔ اس کے نتیجہ میں مقامی باشندوں میں محرومی کا احساس پیدا ہوا۔ اس معاشی عدم توازن میں توازن پیدا کرنے کی کوشش پہلی بار جنرل ایوب خاں کے دور حکومت میں شروع ہوئی۔ مگر مہاجر طبقہ کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ چنانچہ مہاجر سرمایہ کے اوپر ایوب خاں کے خلاف شدید تحریک شروع ہوئی۔ ایوب خاں کی بعض ” کمزوریوں “ کو شوشہ بنا کر ان کے خلاف طوفان کھڑا کر دیا گیا۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی نظام اسلام تحریک جو ایوب خاں کے خلاف اٹھی، اس کی تہ میں اصلا یہی مہاجر تحریک کا زور تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک مہاجر تحریک تھی نہ کہ فی الواقع کوئی اسلامی تحریک۔ اس کے بعد مسٹر بھٹو کے خلاف نظام مصطفیٰ کی تحریک بھی اصلا مہاجر تحریک تھی۔ مسٹر بھٹو مقامی باشندوں (سندھیوں) کے نمائندہ تھے، اور اسلام پسند قیادت مہاجرین کی نمائندہ۔ مسٹر بھٹو کے لئے ” سوشلزم “ کا نعرہ مفید مطلب تھا ، کیوں کہ وہ بڑے بڑے صنعتی اداروں کو نجی ملکیت سے نکالنے کا جواز فراہم کرتا تھا جن پر مہاجر طبقہ قابض تھا۔ اسی طرح دوسرے طبقہ کے لئے اسلام کا نعرہ مفید مطلب تھا۔ کیوں کہ وہ نجی ملکیت کو مقدس قرار دے کر ان کو ان کے مالکوں (مہاجرین) کے قبضہ میں باقی رکھنے کا جواز مہیا کرتا تھا۔ یہ اسلام کے نام پر سراسر غیر اسلامی سیاست تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے منفی نتائج (ایوب اور بھٹو کا زوال ) تو رونما ہوئے۔ مگر اس کے ذریعہ کوئی تعمیری مقصد حاصل نہ کیا جا سکا۔ پاکستان میں اس وقت دو مہاجر تحریکیں چل رہی ہیں۔ ایک مہاجر قومی موومنٹ MQM اور دوسری مہاجر اتحاد تحریک۔ اول الذکر زیادہ بڑی سمجھی جاتی ہے۔ ۱۳ جون ۱۹۸۷ء کی شام کومسٹر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader