افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 353
By Maulana Wahiduddin Khan
طارق جاوید (پیدائش ۱۹۵۴ء) سے ملاقات ہوئی۔ وہ مہاجر قومی موومنٹ کے وائس چیئرمین ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ”آپ کی یہ تحریک قومی تحریک ہے یا اسلامی تحریک؟“ انھوں نے ایک لمحہ کے توقف کے بغیر کہا ”نیشنلٹ تحریک! ہم لوگوں کو اسلام کی بنیاد پر اکٹھا نہیں کر رہے ہیں، ہم صرف مسائل کی بنیاد پر لوگوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ کسی نیشنلٹ تحریک کے لئے زمین ضروری ہے اس لئے ہم نے پانچویں صوبہ (مہاجر صوبہ) کا نعرہ لگایا ہے۔“ مہاجر قومی موومنٹ میں مسٹر الطاف حسین کو ”قائد تحریک“ کی حیثیت حاصل ہے۔ مسٹر الطاف حسین کراچی یونیورسٹی میں طالب علم تھے۔ انھیں فارمیسی (دبی فارما) میں داخلہ نہیں ملا۔ الطاف حسین صاحب نے اس کو مہاجر کے ساتھ امتیاز قرار دیا۔ انھوں نے ۱۱ جون ۱۹۷۸ء کو مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) کی بنیاد ڈالی اور دھواں دھار تحریک شروع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی کوئی تنظیم نہیں۔ مہاجرین کا کوئی علیحدہ تشخص نہیں۔ ان کو ہر جگہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ وغیرہ۔ اس کے بعد یونیورسٹی میں مہاجرین کے خلاف فضا مزید خراب ہو گئی۔ الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں پر رپر لوہا اور خنجر سے حملے کئے گئے یہاں تک کہ یہ حال ہو گیا کہ الطاف حسین صاحب کے لئے یونیورسٹی جانا ناممکن ہو گیا۔ اب انھوں نے تعلیم چھوڑ دی اور ۱۷ مارچ ۱۹۸۴ء کو مہاجر قومی تحریک MQM کی بنیاد ڈالی۔ مسٹر طارق جاوید نے حالات بتاتے ہوئے کہا: ”پاکستان میں زندگی کے ہر شعبہ میں مہاجر کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔ کراچی کے اندر کوئی ویکینسی ہوتی ہے تو اس کا اشتہار اخبار میں اس طرح دیا جاتا ہے ”کراچی، حیدر آباد اور سکر کے لوگ درخواست دینے کی زحمت نہ کریں۔“ ان الفاظ کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ مہاجر لوگ درخواست نہ دیں، کیوں کہ ان تینوں شہروں کی زیادہ آبادی مہاجرین پر مشتمل ہے۔ ہر قسم کے ذمہ دارانہ منصب پر پنجابی مسلمان بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ پنجابی کے سوا کسی اور کو لینا نہیں چاہتے۔ کراچی پولیس کی بھرتی ہوتی ہے تو اس کا اشتہار کراچی کے اخبار میں نہیں دیا جاتا بلکہ لاہور کے اخبار میں دیا جاتا ہے تاکہ مہاجرین اس میں درخواست نہ دے سکیں ۔ پاکستان ایرلائنز میں سب پنجابی بھرے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader