افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 354
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ پی آئی اے پنجاب انٹرنیشنل ایئرلائنز ہے نہ کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز۔ ایک پنجابی اگر ٹرافک رول کی خلاف ورزی کرے تو اس کی چالان نہیں ہوگی۔ اور اگر کوئی مہاجر ٹرافک کی غلطی کر جائے تو فوراً اس کی چالان ہو جاتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ہمارے لئے بقا کا مسئلہ ہے۔ ۱۳ دسمبر ۱۹۸۶ کو علی گڑھ کالونی“ اور ”قصبہ کالونی“ میں ۶ گھنٹہ تک قتل عام ہوتا رہا۔ بچوں کو زندہ آگ میں ڈال دیا گیا۔ قریب ہی پولیس چوکی تھی۔ چند کلومیٹر کے فاصلہ پر فوج موجود تھی۔ مگر پولیس یا فوج نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ یہ باقاعدہ پلاننگ سے ہوا ہے پولیس والے شہری لباس میں آئے اور انھوں نے منظم طریقہ پر مہاجرین کو مار اور جلایا۔ مسٹر طارق انور یہ باتیں کہہ رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ پاکستان کا مسلم لیڈر بول رہا ہے یا ہندوستان کا کوئی مسلم لیڈر۔ میں نے جناب فضل الرحمن صاحب سے پوچھا کہ مہاجرین کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ پیدا ہوا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں یہ مسئلہ جلد ہی ختم ہو گیا۔ چنانچہ آج وہاں ”شرر نار تھی“ نام کے کسی علیحدہ فرقہ کا وجود نہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں یہ مسئلہ آج بھی موجود ہے۔ بلکہ وہ مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ یہاں کے مہاجرین اب اپنے لئے ایک نئی قومیت (مہاجر قوم) کو منوانا چاہتے ہیں اور ایک نیا صوبہ (مہاجر صوبہ) بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فضل الرحمن صاحب نے کہا کہ ہندوستان کے شرر نار تھی محض پناہ لینے کے لئے ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ وہ اپنے آپ کو صرف پناہ گزیں سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس شمالی ہند کے مسلمان مہاجر یہاں آئے تو اس احساس کے ساتھ آئے کہ ہم پاکستان کے خالق ہیں۔ وہ یہاں ہیرو اور فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ تھا کہ ہندوستان کے شرر نار تھیوں میں برتری کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا انھوں نے ہر اعتبار سے اپنے آپ کو نئے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا۔ اس کے برعکس یہاں کے مسلم مہاجرین میں مقامی آبادی کے مقابلہ میں برتری کا احساس پایا جاتا تھا۔ جس کا اظہار بار بار مختلف شکلوں میں ہوتا رہا۔ اس کار عمل یہ ہوا کہ یہاں کے مقامی باشندوں میں فرزندان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader