Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 359

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کو بہت سے لوگ نہایت دلچسپی کے ساتھ پڑھتے ہیں اور ہر ماہ اس کے منتظر رہتے ہیں۔ ایک قاری کا تاثر انھوں نے ان الفاظ میں بتایا : قرأت الكثير من الكتب الاسلامية وكانت لدى استفسارات حول الاسلام ـ فما وجدت الاجوبة الا بعد قرأتي لمجلة الرسالة الصادرة من نيودلهي باللغة الانجليزية شریف سالم حسین، ص ب ۲۸ | مارسبت، ۱، افریقہ ایک اور صاحب سلیمان عمرانی کیلیمیلی سے ملاقات ہوئی۔ وہ دارالسلام (تنزانیہ) سے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار میں ایران گیا تھا۔ وہاں مجھے آپ کی کتاب الاسلام مبتدی ملی۔ اس کو میں تین بار پڑھ چکا ہوں۔ اس کتاب پر عربی کی یہ مثل صادق آتی ہے: کل اللحم في جوف الفرا ۔ اس کتاب میں اتنی زیادہ باتیں ہیں کہ آدمی ہر بار پڑھنے میں نئی بات پاتا ہے (من يقرأ كتاب الاسلام يتحدى يستفيد في كل مرة شيئاً جديدا۔ فاذا اقترأ الانسان في المرة الاولى واستفاد شيئاً في المرة الثانية يستفيد شيئاً آخر ، وهكذا دو إليك) Suleimab Amrani Kilemile P.O. Box 45257, Dar-es-Salam, Tanzania, Africa محمد راشد الفرحان (کویت) نے ایک بحث میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو چاہئے کہ مسجدوں کو سیاست سے الگ رکھیں ۔ عرب ممالک میں لوگوں نے مساجد کے اندر سیاسی تقریریں شروع کردیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تمام عرب ممالک میں مساجد نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد بند کردی جاتی ہیں۔ حالانکہ مساجد کو ثقافت اسلامی کا مرکز بننا تھا مگر ان کو سیاسی مرکز بنانے کی کوشش میں مسجد کی یہ دینی حیثیت ہم سے چھن گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو چاہئے کہ ہم بقیہ ملکوں میں ان مساجد کو سیاست سے دور رکھیں تاکہ ان کے ساتھ وہ نہیں نہ آئے جو عالم عرب کی مساجد کے ساتھ پیش آچکا ہے (حتی لا يصيب لهذه المساجد ما اصاب في العالم العربي)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page