افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 360
By Maulana Wahiduddin Khan
ویلیٹ انڈیز کے ایک صاحب نے بتایا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تصویر ایک دہشت پسند انسان کی تصویر بن گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار میری ملاقات ایک عیسائی عالم سے ہوئی۔ اس نے ان کی داڑھی اور ٹوپی کو دیکھ کر سمجھا کہ یہ مسلمان ہیں۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ایک حصہ یہ تھا: Are you a Muslim ? Yes. Then you are a terrorist. یہاں کے دوران قیام میں کئی بار عربوں کی مجالس کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ میں نے اسلام کے مختلف فکری پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ ایک مجلس میں میں نے اس بات کی وضاحت کی کہ موجودہ زمانہ میں جہاد کا غلط مفہوم لے لیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان غیر ضروری طور پر دوسروں سے اور خود اپنے حکمرانوں سے ٹکراؤ کر رہے ہیں، اور اس کی وجہ سے نہایت قیمتی وسائل اور مواقع برباد ہو رہے ہیں۔ ایک مجلس میں میں نے صلح حدیبیہ کی حکمت کے بارہ میں تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا۔ میری عربی اگرچہ ہندوستانی عربی تھی مگر وہ لوگ بے حد غور کے ساتھ سنتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی ہونے کے باوجود آپ کی زبان ہم کو پسند ہے، کیوں کہ وہ محدود اسلوب میں ہوتی ہے اور پوری طرح سمجھ میں آ جاتی ہے۔ صلح حدیبیہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے میں نے کہا: بعد ما تم صلح الحديبية نزلت سورة الفتح وجاء فيها ويهديك صراطاً مستقيماً فكأنَّ هذا الصلح كان هادياً ابدياً لكيفية معاملة الاعداء كي نحقق النصر عليهم۔ ثم انظر كيف كان صلح الحديبية - كان على شرط قريش - فهذا الصلح ما حصل الا بعد ما رضى صلى الله عليه وسلم على شرط أعدائه بطرف واحد۔ وبتعبير آخر، رضى الرسول صلى الله عليه وسلم بالهزيمة فجاءه الفتح العظيم - فهذا هو سر النجاح في هذا العالم، وفي العصر الحاضر نرى جماعات و شخصيات كثيرة قامت من اجل الاسلام ولكنّهم فشلوا في ادراك النجاح حتى بعد مئات السنين - و السبب واحد. فهم يريدون

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader