Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 364

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے اور العروۃ الوثقی کے نام سے ایک سیاسی اور احتجاجی پرچہ نکال رہے تھے، انھوں نے اپنے شاگرد مفتی محمد عبدہ سے کہا کہ یورپ کے مقابلہ میں امریکہ میں اسلامی دعوت کی کامیابی کے بہت زیادہ مواقع ہیں۔ یورپ چونکہ صلیبی لڑائیوں میں براہ راست شریک تھا، اس کے یہاں اسلام اور مسلمانوں سے نفرت پائی جاتی ہے۔ مگر امریکی قوم اس قسم کی نفسیات سے خالی ہے۔ اس لئے امریکہ میں اگر تبلیغ کا کام کیا جائے تو ان کے اندر تیزی سے اسلام پھیلے گا۔ شیخ محمد عبدہ نے کہا کہ پھر کیوں نہ ہم موجودہ سیاسی کام چھوڑ دیں اور امریکہ جاکر دینی تبلیغ کا کام کریں۔ مگر جمال الدین افغانی کو یہ کام چھوٹا کام نظر آیا۔ انھوں نے کہا: انما انت مثبت۔ جمال الدین افغانی کے لئے امریکہ گویا ”مدینہ“ تھا۔ وہ امریکیوں میں دعوتی کام کر کے بالآخر غیر امریکیوں کو بھی اپنے دائرہ اثر میں لاسکتے تھے۔ مگر انھوں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے امریکیوں کو بھی کھویا اور غیر امریکیوں کو بھی۔ اپنے ذوق کے اعتبار سے سفر میرے لئے نہایت وحشت خیز ہوتا ہے۔ میں صرف اس لئے سفر کرتا ہوں کہ سفر کے دوران جو تجربات ہوتے ہیں ان کا حصول کسی اور طریقے سے ممکن نہیں۔ اپنے ہوٹل کے کمرہ میں میں اپنے تجربات کو اپنی یادوں کی دنیا میں سمیٹ رہا تھا اس وقت میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ تمہارے اس سفر کے تجربات کا آخری خلاصہ کیا ہے تو میں کیا کہوں گا۔ یہ سوچتے، ہوئے یہ فقرہ میری زبان پر آگیا ۔ ______۔ کامل انسان وہ ہے جو اپنے کو غیر کامل سمجھے، جو بڑا ہونے کے باوجود اپنے آپ کو چھوٹا بنا لے۔ اور یہ حقیقت نہ ہو نہ کہ اظہار خاکساری کے طور پر۔ واپسی روم کے راستہ سے ہوئی ۔ البیتلیا کے جہاز کے ذریعہ ۲۰ جون کی سہ پہر کو روم پہنچا۔ یہاں ہوائی اڈہ کے پنجر سروس پر میں نے اپنا ٹکٹ دکھایا اور معلوم کیا کہ ایر انڈیا کا بورڈنگ پاس لینے کے لئے مجھے کہاں جانا چاہئے۔ کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے اطالوی آدمی نے کمپیوٹر پر انگلیاں ماریں اور کہا کہ ” گیٹ نمبر ۴۱“۔ وسیع ہوائی اڈہ کے مختلف حصوں سے گزرتا ہوا میں گیٹ نمبر ۴۱ پر پہنچا تو وہاں کاؤنٹر پر ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کو میں نے اپنا ٹکٹ دیا۔ اس نے دوبارہ کمپیوٹر پر اپنی انگلیاں ماریں اور اس کے نقوش کو دیکھ کربتا یا کہ آپ گیٹ نمبر ۱۴ پر جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page