Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 363

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں عرب نوجوانوں کی کافی بڑی تعداد ہے جو اسلامی مرکز سے بخوبی واقف ہے اور اس دینی فکر سے بہت قریب ہے جو اسلامی مرکز کے تحت سامنے لایا جا رہا ہے۔ چند سفروں میں وہ لوگ مجھ سے زبانی طور پر اس مشن کے بارہ میں سنتے رہے ہیں۔ اور اب خدا کے فضل سے وہ اس مشن سے بہت قریب آ چکے ہیں۔ ایک عرب نوجوان جو انجینئر ہیں، انھوں نے تاثرات بیان کرتے ہوئے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے بارہ میں یہ الفاظ کہے: إننا نشعر، إننا كنا في ظلام ، لا نعرف أين نسير۔ وعندما عرفنا الفكرة وعرفنا صاحب هذه الفكرة شعرنا كأننا خرجنا الى النور والهداية وكأننا ولدنا من جديد۔ هذا واحد من الشعور الحقيقي الأصلي، لاننا لانعرف كيف تعبر عن هذه الحقيقه التي نجدها في قلوبنا۔ ۱۶ جون ۱۹۸۷ء کی صبح کو عرب طلبہ کی ایک جماعت میرے کمرہ میں آگئی۔ ان سے مختلف اسلامی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ سنت میں ہر قسم کی رہنمائی موجود ہے۔ مگر نقص مطالعہ کی وجہ سے، ہم سنت سے رہنمائی حاصل نہیں کر پاتے۔ میں نے کہا کہ مثال کے طور پر ایک حدیث ہے۔ امرت بقرية تأكل القرى يقولون يثرب وهي المدينة (مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے) آپ حدیث کی کتا ہیں پڑھیں تو یہ حدیث آپ کو ”فضائل مدینہ“ کے باب کے تحت لکھی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ پڑھنے والا جب اس کو پڑھتا ہے تو وہ اس کو مدینہ نامی ایک بستی کی فضیلت کے خانہ میں ڈال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ حالانکہ گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو اس حدیث میں دعوت اسلامی کا منہاج بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ” مکہ “ میں اگر کام کے مواقع نہ مل رہے ہوں تو ”مدینہ“ کو اپنے کام کا مرکز بناؤ۔ کیوں کہ مدینہ کے راستہ سے تم مکہ تک بلکہ تمام بستیوں تک پہنچ سکتے ہو۔ اس سلسلہ میں میں نے سید جمال الدین افغانی کی مثال دی۔ جس زمانہ میں وہ پیرس میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page