Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 367

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سفر ڈیگو گارشیا سے لے کر اکادیپ تک سمندر میں جگہ جگہ چٹانی ابھار اس طرح پھیلا ہوا ہے جیسے کسی نے انتھاہ پانی کے درمیان لکڑی کے بہت سے تنے ڈال دئے ہوں ۔ اسی لمبے سلسلے کے درمیان وہ ’’ ملک‘‘ ہے جس کو جزائر مالدیپ کہتے ہیں ۔ یہ جزائر ہندوستان کے جنوبی ساحل سے تقریباً ۴۰۰ میل کے فاصلہ پر واقع ہیں ۔ مالدیپ کے بارہ میں راقم الحروف نے سب سے پہلے الجمعیۃ ویکلی ۲۹ مارچ ۱۹۷۳ء میں ایک مفصل مضمون شائع کیا تھا۔ اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا گیا تھا : مالدیپ کا رقبہ صرف ۳۰۰ مربع کلو میٹر ہے، مگر کلیدی محل وقوع کی وجہ سے وہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی بنا پر بر طانیہ نے پہلی بار مالدیپ (مالے) میں ایک ہوائی اڈہ بنایا۔ دوسری عالمی جنگ میں فوجی اہمیت کے اس ہوائی اڈہ سے برطانیہ نے بہت کام لیا تھا۔ بحر ہند کے درمیان اس ہوائی اڈہ کو دیکھ کر خیال ہوتا ہے کہ انگریز واقعہً دور رس نظر رکھتے تھے۔ اسی لئے وہ دنیا کے اتنے بڑے رقبہ پر حکومت کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ الجمعیۃ کے اس مضمون میں راقم الحروف نے مزید لکھا تھا: جزائر مالدیپ کی پوری آبادی مسلمان ہے۔ یہ پانچ سو سال پہلے کے اس واقعہ کی یادگار ہے جب کہ عرب تاجروں کے ذریعہ اسلام جنوبی ہند کے ساحل سے لے کر سیلون، مشرقی بنگال، ملائیشیا اور چین تک پھیل رہا تھا۔ پندر ہوویں صدی کے آخر میں پرتگالی قافلے بحر ہند میں آگئے ، اور انھوں نے اس علاقہ سے عربوں کی تجارت منقطع کر دی ۔ اس کے بعد اس علاقہ میں اسلام کی اشاعت کا کام بھی بند ہوگیا (صفحہ ۱۰) مالدیپ کے لئے میرا پہلا سفر جنوری ۱۹۸۳ میں ہوا۔ یہ سفر ایک اسلامی کانفرنس کی دعوت پر تھا۔ اس سفر کی روداد الرسالہ مئی ۱۹۸۳ میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کانفرنس میں مجھے ایک مقالہ ’’جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کی اشاعت ‘‘ کے موضوع پر پیش کرنا تھا۔ مقالہ کی تیاری کے لئے کتابوں کی ضرورت تھی ۔ دہلی کے مسلم اداروں میں مجھے اس موضوع پر کوئی کتاب نہ مل سکی اس کے بعد میں نے دہلی کے ایک مسیحی ادارہ کو ٹیلیفون کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ آج شام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page