Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 371

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ خوبصورت سیپ جن میں دنیا کے کیکڑے بیٹھے ہوتے ہوں، ان کو ہر آدمی دیکھ لیتا ہے اور اپنے سے دور پھینک دیتا ہے۔ مگر یہاں دوسرے بہت سے خوبصورت سیپ ہیں جن میں آخرت کے کیکڑے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان دوسری قسم کے کیکڑوں کو کوئی نہیں دیکھتا۔ ان کو ہر آدمی اپنے بیگ میں محفوظ کئے ہوئے ہے۔ وہ ان کو صرف آخرت میں پھینکنا چاہے گا۔ مگر اس وقت کا پھینکنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ زمانہ میں انگریزی اخبار دکن کرانیکل (۵ دسمبر ۱۹۸۷ء) نظر سے گزرا۔ اس کی ایک خبر کی سرخی تھی معمولی جھگڑے پر موت: Petty quarrel leads to death خبر میں بتایا گیا تھا کہ حیدر آباد میں ایک شخص نے رات کے وقت کسی آدمی کا دروازہ کھٹکھٹایا صاحب مکان کو اتنی رات میں دروازہ کھٹکھٹانا قابل اعتراض معلوم ہوا۔ وہ آنے والے سے جھگڑنے لگا۔ اب دوسرا شخص جو اس کا جاننے والا تھا اور سادہ طور پر صرف ملنے کے لئے آیا تھا۔ وہ بھی غصہ میں آ کر لڑنے لگا۔ یہاں تک کہ مار پیٹ کی نوبت آگئی اور ایک شخص شدید زخمی ہو کر ہلاک ہو گیا۔ بظاہر یہ دو جاہل آدمیوں کی کہانی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی پوری ملت کی کہانی ہے۔ آج تمام دنیا میں مسلمانوں کا حال یہی ہے کہ وہ معمولی معمولی باتوں پر لڑ جاتے ہیں اور لڑائی شروع ہونے کے بعد ان کی لڑائی دوبارہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک ان کے اندر لڑنے کی سکت ہی ختم نہ ہو جائے۔ ________ عراق۔ ایران کی حکومتی جنگ سے لے کر بستیوں کی انفرادی مقدمہ بازی تک ہر جگہ مسلمانوں کا حال یہی ہے۔ راستہ میں ہمارا جہاز کچھ دیر کے لئے کوچن اترا۔ ۳۵ سال پہلے میں ایک بار چندن کے لئے کوچن آیا تھا۔ اس وقت کی کئی باتیں ابھی تک مجھ کو یاد ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں کوچن سے راس کماری (کیپ کومورن) گیا تھا۔ اس وقت یہاں تعمیرات نہیں ہوئی تھیں۔ ہندوستان کے آخری ساحل پر بیٹھ کر دیر تک میں سمندر کے مناظر کو دیکھتا رہا۔ ساحل سے تقریباً نصف فرلانگ کے فاصلہ پر سمندر کے درمیان ایک چٹان تھی۔ اس سے سمندر کا پانی ٹکرا کر اچھلتا تھا تو عجیب منظر پیدا ہوتا تھا۔ سوامی ویویکا نند ہندوستان کا سفر کرتے ہوئے یہاں آئے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page