Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 372

By Maulana Wahiduddin Khan

انہوں نے سمندر میں چھلانگ لگا دی ۔ وہ تیرتے ہوئے مذکورہ چٹان کے اوپر پہنچے اور وہاں دھیان گیان کیا۔ اب اس چٹان پر ان کے نام سے بہت بڑا اسٹر بنا دیا گیا ہے۔ تاہم قدرت کا سابقہ منظر اب وہاں موجود نہیں ۔ آتے اور جاتے ہوئے تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے جہاز کو میں ٹھہرا ۔ بہت سی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں ۔ گوا ۱۵۰۵ سے پرتگال کے قبضہ میں تھا۔ ۱۹۶۲ میں دوبارہ وہ ہندوستان کے قبضہ میں آیا۔ آزادی (۱۹۴۷) سے قبل ہندوستان میں تین مغربی طاقتیں تھیں ۔ زیادہ بڑے حصہ پر انگریز اور چند چھوٹے مقامات پر فرانسیسی اور پرتگالی ۔ انگریزوں اور فرانسیسیوں نے بدلے ہوئے حالات کا اعتراف کرتے ہوئے پرامن طور پر اپنے زیر قبضہ علاقے خالی کر دتے ۔ مگر پرتگالی پر امن تخلیہ کے لئے راضی نہیں ہوتے ۔ ملک میں آزاد قومی حکومت کے قیام کے بعد جواہر لال نہرو نے مسلسل یہ کوشش کی کہ پرتگالی پرامن طور پر اپنے علاقے کو آزاد کر دیں۔ مگر وہ راضی نہیں ہوتے ۔ آخر کار دسمبر ۱۹۶۱ میں ہندوستان نے فوجی کارروائی کرکے بزور گوا پر قبضہ کر لیا۔ اس سلسلہ میں انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے نہایت با معنی بات لکھی ہے ۔ اس نے لکھا ہے کہ نہرو کے فوجی قبضہ کے بعد مغربی ملکوں میں اس کے خلاف کافی شور و غل ہوا مگر تاریخ کی روشنی میں نہرو کا اقدام جائز تھا۔ برطانی اور فرانسیسی واپسی کے بعد ہندوستان میں پرتگالی مقبوضات کی موجودگی ایک خلاف زمانہ حرکت تھی ؛ With the withdrawl of the British and the French, the Portugese colonial presence in India became an anachronism (12/946). حقیقت واقعہ کا اعتراف اگر آپ بخوشی نہ کریں تو بالآخر آپ کو حقیقت واقعہ کا اعتراف بجبر کرنا پڑے گا ۔ اور دوسری صورت کے مقابلہ میں پہلی صورت یقینی طور پر زیادہ آہون ہے ۔ تریوندرم سے جہاز بدلنا تھا ، اس لئے یہاں چند گھنٹے رکنا پڑا ۔ تریو ندرم ریاست کیرلا کا دار السلطنت ہے جو ساحل سمندر سے ایک میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ تریو ندرم کو پہلی بار ۱۹۴۷ء میں اہمیت حاصل ہوئی جب کہ راجہ مار تنڈاورمانے اس کو اپنی راجدھانی قرار دیا۔ کیرلا یونیورسٹی یہیں قائم ہے ۔ مشہور اورینٹل کانفرنس (۱۹۳۷) تریوندرم ہی میں ہوئی تھی ۔ اس کے صدر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page