Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 376

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئے ۔ ۱۲ ویں صدی عیسوی میں ان لوگوں نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیا۔ جناب ابراہیم شہاب (اسپیکر) نے مالدیپ میں اسلام کے آغاز کی تاریخ کسی قدر مختلف انداز میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہاں ایک راجہ شری بھونا دیت تھے۔ ان کے زمانہ میں مغرب (افریقہ) سے ایک "ولی" ابو البرکات یوسف البربری یہاں آئے۔ ۵۴۸ ھ میں ان کے ہاتھ پر راجہ مسلمان ہو گیا۔ اور اپنا نام محمد بن عبد اللہ رکھا۔ اس کے بعد تھوڑی مدت میں مالدیپ کے تمام باشندے مسلمان ہو گئے۔ جناب ابراہیم شہاب نے ایک اور عجیب بات یہ بتائی کہ سابق سلطان کا خاندان مالدیپ میں نئے حالات سے مکمل موافقت کر کے رہتا ہے۔ دوسرے باشندوں کی طرح اس کے افراد یا سروس میں ہیں یا تجارت میں کسی شاہی خاندان کے لئے بدلے ہوتے حالات سے مطابقت کی یہ انوکھی مثال ہے جو غالبأ یہاں کے سادہ فطری مزاج کی دین ہے۔ مالدیپ جیسے چھوٹے ممالک قدیم زمانہ میں ہمیشہ خطرہ کی حالت میں رہتے تھے۔ کسی بھی صبح و شام کو فی بڑی طاقت اگر ان پر قبضہ کر سکتی تھی ۔ مثلاً پرتگالی ۵۵۸ا میں آکر مالدیپ پر قابض ہو گئے۔ ان کا قبضہ ۵۷۳ا تک جاری رہا۔ سترہویں صدی عیسوی میں وہ ڈچ حکمرانوں کے ماتحت رہا۔ ۱۸۸۷ء اسے وہ برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد نو آبادیاتی نظام کمزور ہوا تو ۱۹۶۵ء میں اس کو برطانیہ سے آزادی حاصل ہوگئی ۔ ۱۹۶۸ء سے مالدیپ میں مکمل جمہوریہ قائم ہے۔ موجودہ دور میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ چھوٹی قومیں بھی اپنی آزاد حکومت قائم کر سکیں ۔ مالدیپ ۱۹۶۵ء سے اقوام متحدہ کا ممبر ہے۔ یہاں تقریباً ۸۵ فی صد لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔ مساوات اور قومی سالمیت اور انسانی آزادی کے احترام کا دور جو موجودہ زمانہ میں پیدا ہوا ہے اس کو عام طور پر لوگ اس جدید مغربی انقلاب سے منسوب کرتے ہیں جس کی ایک علامت اقوام متحدہ ہے۔ مگر خود جدید انقلاب اور اقوام متحدہ اس اسلامی انقلاب کی پیداوار ہیں جو چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے عالمی سطح پر پیدا کیا تھا۔ ۱۶ ویں صدی کے پرتگالی سیاح بار بوسا (Duarte Barbosa) نے جنوبی ہند کا سفر کیا تھا۔ وہ ۱۵۰۴ اور ۱۵۱ کے درمیان وجیا نگر میں آیا تھا۔ اس نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page