افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 375
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا طرزِ تعمیر عام ہوائی اڈوں سے مختلف ہے۔ وہ جس طرح فطری ماحول میں ہے، اسی طرح وہ فطری اند از میں بنایا گیا ہے اور نہایت خوبصورت ہے۔ ہوائی اڈہ اور مالے کے درمیان سمت در حائل ہے۔ یہ فاصلہ جدید طرز کی موٹر بوٹ کے ذریعہ طے ہوا۔ یہ سفر اس درجہ پرکشش تھا کہ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک عرب شیخ بار بار ’’جمیل، جمیل‘‘ کہے جا رہے تھے۔ ہمارے پیچھے، ہوائی اڈہ پر جہاز رن وے پر دوڑ رہا تھا، اور ہمارے سامنے مشینی کشتی سمندر کی موجوں کو پھاڑتی ہوئی آگے چلی جارہی تھی۔ چاروں طرف آفاقی مناظر اور حسین فطرت آدمی کو مبہوت کر رہے تھے۔ اس تجربہ کے زیر اثر میں ہوٹل کے کمرہ میں داخل ہوا تو وہاں دیوار پر ایک خوبصورت تصویر تھی جس میں سمندر کے پس منظر میں جزیرہ کو دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر کے نیچے انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: A taste of paradise میں نے سوچا کہ جس جنت کی دور کی ایک جھلک اتنی حسین ہو، وہ جنت خود کتنی زیادہ حسین ہوگی۔ بے اختیار یہ دعا نکلی کہ خدایا، میرے پاس کوئی عمل نہیں جس سے میں جنت جیسی قیمتی چیز کا امیدوار بن سکوں دوسرے لوگوں کو آپ جنت بطورِ جزا دیں گے، مجھ کو جنت بطورِ عطیہ دے دیجئے۔ موٹر بوٹ سے اتر کر سڑک پر آئے تو وہاں سب سے پہلے جو چیز نظر کے سامنے تھی وہ ایک بڑا سا بینر تھا جس پر لکھا ہوا تھا: مرحباً بالضیوف المسلمین علی ارض الاسلام (اسلام کی سرزمین پر مسلم علماء کا آنا مبارک) یہ گویا پہلی تحریری علامت تھی کہ اب ہم اس منزل پر پہنچ گئے ہیں جہاں مذکورہ انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس کا انعقاد ہونے والا ہے۔ پروفیسرٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اپنی کتاب پریچنگ آف اسلام میں مالدیپ کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ گمان غالب ہے کہ مالابار کے راستہ سے اسلام مالدیپ میں پہنچا۔ اس جزیرے کے باشندے عرب اور ایرانی تاجروں کے ذریعہ مسلمان ہوئے۔ یہ تاجر ان علاقوں میں آباد ہوتے۔ انھوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں کیں اور اس طرح انھوں نے یہاں مؤثر تبلیغ کا راستہ ہموار کیا۔ اندازہ ہے کہ مالدیپ میں پہلا اسلام قبول کرنے والا شخص سلطان احمد شنورازہ تھا جو ۱۲۰۰ء کے قریب مسلمان ہوا۔ (صفحه ۲۷۳) کچھ مورخین کا خیال ہے کہ لگ بھگ ۵۰۰ء میں سیلون سے کچھ بدھ مت یہاں آکر آباد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader