Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 378

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر چہ سخر لكم ما فی السموات والارض کے دوسرے بے شمار پہلو ہیں جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہیں۔ مگر ان کو جاننے کے لئے سائنسی معلومات کی ضرورت ہے لیکن ہاتھی اور سمندر کا مسخر ہونا ایسے کھلے ہوئے واقعات ہیں جن کو ایک عام آدمی بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔ اور ان سے اپنے لئے سبق حاصل کر سکتا ہے۔ مالدیپ کو ” سیاحوں کی جنت “ کہا جاتا ہے۔ یہاں کثرت سے مغربی ملکوں کے لوگ تفریح اور سیاحت کے لئے آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں سے یہاں میری گفت گو ہوئی۔ میرا عام تاثر یہ ہے کہ مسلمانوں میں اور مغربی اقوام میں ایک خاص فرق پایا جاتا ہے۔ اگر آپ ایک مسلمان سے کسی موضوع پر گفت گو کریں تو اس کے لئے انتہائی مشکل ہوگا کہ وہ اپنے ذاتی خیالات سے الگ ہو کر آپ کی بات سن سکے۔ وہ آپ کی بات کو اس طرح سنتا ہے جیسے کہ کب آپ کی بات ختم ہو اور وہ دوبارہ اپنے دماغ کا ٹیپ کھول دے۔ میں نے اپنے تجربہ میں بار بار یہ محسوس کیا ہے کہ اس معاملہ میں مغربی انسان کا حال بالکل مختلف ہے ۔ ذاتی طور پر وہ خواہ کوئی بھی خیال رکھتا ہو ، مگر جب آپ اس سے ایک بات کہیں تو وہ اپنے خیالات سے جدا ہو کر آپ کی بات کو سنے گا۔ ایسا معلوم ہو گا جیسے کہ تھوڑی دیر کے لئے وہ خالی الذہن ہو گیا ہے اور ہر دوسری چیز سے بالکل بے تعلق ہو کر آپ کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بے حد اہم فرق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب سے بڑا سبب ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جوود کی حالت میں مبتلا کر دیا ہے ، اور مغربی قومیں مسلسل ترقی کی طرف اپنا سفر جاری کئے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک پاکستانی افسر سے ملاقات ہوئی۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئے تھے اور اگست ۱۹۴۷ء میں پاکستان منتقل ہو گئے ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میرا ڈس ایڈوانٹیج یہ ہے کہ میں ایک ” اردو سپیکنگ مہاجر ہوں ، اس لئے بڑی ترقیوں کے دروازے میرے لئے بند ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا اگر وہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے پاکستان میں بے حیثیت ہو رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں ” ان مہاجرین کے اندر Nuisance value تو ہے ، مگر ان کے اندر Democratic value نہیں اس لئے وہ شور وغل تو کر سکتے ہیں ، مگر وہ ملک کے ڈھانچہ میں کوئی موثر تبدیلی لانے کی طاقت نہیں رکھتے ____ جو لوگ “ ہند و اکثریت سے خائف ہو کر پاکستان چلے گئے تھے ، وہ دوبارہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page