افریقہ کا سفر
Urdu book, p. 379
By Maulana Wahiduddin Khan
خود "مسلم اکثریت" کا شکار ہو کر رہ گئے ۔ یہ بات جو مذکورہ پاکستانی نے اپنے ملک کے بارے میں کہی ، یہی ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں بھی درست ہے ۔ یہاں کے مسلمان جلسے جلوس ، تقریروں اور بیانات کے ہنگامے تو کھڑا کرتے ہیں مگر وہ ملکی نظام پر اثر انداز نہیں ہو پاتے ۔ اور اس کی مشترک وجہ یہ ہے کہ وہ اقلیت میں ہیں اور اسی کے ساتھ غیر منظم بھی۔ ان کے موجودہ طریق کار کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ صرف غو غائی گروہ کا لقب حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اس Clamorous group کے بجائے " تخلیقی گردہ " بننا چاہئے ۔ انھیں احتجاج اور مطالبہ کے بجائے اپنی افادیت ثابت کر کے اس ملک میں اپنا مقام حاصل کرنا چاہئے ۔ ایک اور پاکستانی مسلمان نے بتایا کہ ۱۹۸۶ میں کراچی میں شیعہ سنی فساد کا سبب جلوس تھا ۔ شیعہ حضرات نے ایک ایسے راستے سے اپنا جلوس نکالا جس پر سنی حضرات کو اعتراض تھا ۔ انھوں نے روٹ بدلنے پر اصرار کیا ۔ تاہم روٹ میں تبدیلی نہ ہوسکی اور فساد ہو گیا ۔ یہی کہانی ہندوستان میں بھی بار بار دہرائی جارہی ہے ۔ جلوس کے روٹ پر اعتراض کا سبب غالباً مسلمانوں کا بڑا ہوا جذبہ فخر ہے۔ جلوس کو مسلمان شان وشوکت کا مظاہرہ سمجھتے ہیں ، اس لئے غیر قوم کے جلوس کا اپنے علاقہ سے گزرنا انھیں گوارا نہیں ہوتا ۔ مسلمانوں سے اگر جھوٹے فخر کی یہ نفسیات ختم ہو جائے تو جلوس جیسی چیزوں پر فساد بر پا ہونے کا سلسلہ بھی یقیناً ختم ہو جائے گا۔ ڈاکٹر شیر چو دھری جنوبی افریقہ سے آئے تھے ۔ وہ اصلاً پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مگر اب افریقہ میں وہاں کے شہری کی حیثیت سے رہ رہے ہیں ۔ انھوں نے ایک گفتگو کے دوران بہت دل چسپ بات کہی ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اصلاح کیسے ہو ۔ کوئی شخص جب مسلمانوں کی اصلاح کے لئے نکلتا ہے ، تو خواہ وہ جدھر بھی نکلے ، فوراً راستہ میں ایک مردہ آکر کھڑا ہو جاتا ہے اور اس کا سفر وہیں رک جاتا ہے ( مردہ کھڑا ہونے سے ان کی مراد کیا تھی ، اس کی تشریح ناظرین خود کر سکتے ہیں ) مذکورہ اسلامی کانفرنس کا ایجنڈا ( جدول الاعمال ) حسب ذیل تھا : عالمی اسلامی مسائل پر رپورٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader