Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 383

By Maulana Wahiduddin Khan

کی کوشش میں جزاء کو بھی کھودیں، حتیٰ کہ خود دعوت کو بھی۔ ایک عرب نوجوان نے پرجوش طور پر اس چیز کا ذکر کیا جس کو آجکل صحوۃ اسلامیہ (اسلامی بیداری) کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ صحوۃ اسلامیہ نہیں ہے بلکہ صحوہ قومیہ ہے۔ ان تحریکوں کے پیچھے رومانی جوش کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے منفی دھوم میں تو ضرور اضافہ کیا ہے۔ مگر ان کے ذریعہ اب تک کوئی مثبت انجام ظاہر نہ ہوسکا۔ اسلامی صحافت کے موضوع پر کلام کرتے ہوئے ایک صاحب نے کہا جو لندن سے آئے تھے، کہ ہمارے نزدیک اسلامی صحافت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو معصوم فرض کرتے ہوئے صرف اغیار کو ظالم اور فاسد بتایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف ہماری یہ اسلامی صحافت ہے۔ دوسری طرف یہودی صحافت کا حال یہ ہے کہ میں یہودیوں کے بڑے بڑے اخبارات کو پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں ۔ میں نے پایا ہے کہ یہودی اخبارات میں کسی تحفظ کے بغیر یہودیوں کے درمیان پائی جانے والی خرابیوں کو بتایا جاتا ہے اور کوئی یہودی اس کو برا نہیں مانتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کی یہ شکایت اگر صحیح مان لی جائے کہ یہودی اور عیسائی اخبارات ہمیشہ مسلمانوں کی بری تصویر پیش کرتے ہیں تو عین یہی بات خود مسلم اخبارات بھی عیسائیوں اور یہودیوں کے بارہ میں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلم صحافت سے اگر ہماری مراد مسلم وکالت ہے تو یہ بالکل بے فائدہ ہے۔ اس کے برعکس مسلم صحافت کو بیان واقعہ پر مبنی ہونا چاہئے۔ اس طرح ایک طرف ہم اپنے نقائص سے مطلع ہو کر اس کی اصلاح کی طرف توجہ دے سکیں گے۔ دوسری طرف ہمارے اخبار کو قارئین کے درمیان مقبولیت حاصل ہوگی ۔ وکیلانہ صحافت کو کبھی عمومی ریڈر شپ نہیں مل سکتی، حتیٰ کہ اس گروہ کے درمیان بھی نہیں جس کی وکالت کے لئے اسے جاری کیا گیا ہے۔ سری لنکا سے ایک صاحب کانفرنس میں شریک ہوتے۔ انھوں نے ان مظالم کی تفصیل بیان کی جو اکتوبر - نومبر ۱۹۸۷ء میں وہاں کے مسلمانوں کو پیش آئے اور جس کے نتیجے میں تقریباً پچاس ہزار آدمی اپنے وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ۔ انھوں نے جو تفصیلات بیان کیں، ان سے میں نے جو نتیجہ نکالا ، وہ یہ تھا کہ سری لنکا کے ایک علاقہ میں تامل باشندوں نے آزاد تامل اسٹیٹ کا مطالبہ کیا۔ اس علاقہ کے ایک مختصر حصہ میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ ان مسلمانوں کو اندیشہ ہوا کہ وہ تامل اسٹیٹ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page